گوہاٹی: ہاؤسنگ اور شہری ترقیات کی وزارت کے سوچھ بھارت مشن۔اربن کے تحت ملک بھر کے شہروں میں ‘سوچھ دیوالی شبھ دیوالی’ مہم چلائی جا رہی ہے ۔ اس مہم کے تحت آسام نے دیوالی کے بعد پیدا ہونے والے کچرے کو ٹھکانے لگانے کے انتظام کیلئے ایک منفرد پہل کی ہے ۔ روایتی طور پر آسام میں دیوالی کے موقع پر لوگ کیلے کے درختوں اور رہائشی اور تجارتی اداروں کے داخلی راستوں پر مٹی کے چراغ جلاتے ہیں۔ اس کیلئے دیوالی کی رات استعمال ہونے والے کیلے کے پیڑ کے تنوں کا اگلے دن کوئی فائدہ نہیں ہوتا اور ان کو ہٹانے کی ذمہ داری شہری بلدیاتی ادارے پر آتی ہے ۔ ایسے میں اس بار دیوالی کے بعد صفائی کو یقینی بنانے کیلئے ‘ویسٹ ٹو ویلتھ’ اصولوں کی بنیاد پر کچرے ہٹانے کا انتظام کرنے کا کام کیا جا رہا ہے ۔آسام میں سوچھ بھارت مشن اربن ٹیم نے دیوالی کے بعد کچرے کو ہٹانے کیلئے ایک خاص منصوبہ بنایا ہے ۔ اس اسکیم کے تحت دیوالی کے روایتی جشن کے اگلے دن کیلے کے جو درخت، تنوں اور پتوں کو چھوڑ دیا جائے گا، انہیں شہری بلدیاتی اداروں کے ارد گرد واقع نیشنل پارکس میں ہاتھیوں کے چارے کے طور پر استعمال کرنے کیلئے حوالے کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ جہاں آس پاس کوئی نیشنل پارکس نہیں ہیں وہاں لوگ کیلے کے درختوں کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ کر ٹھکانے لگانے کیلئے شہری بلدیاتی اداروں کے حوالے کر دیں گے ۔ وہاں سے میونسپل کارپوریشن کے ملازمین ان کٹے ہوئے درختوں کے تنوں کو گائے کے شیڈ یا مرکز میں واقع ‘ویسٹ ٹو کمپوسٹ’ گڑھوں ڈال دیں گے ۔ اس طرح کے کچرے کو ختم کرنے کیلئے پہلے ہی مختلف مقامات پر 104 مرکزی کھاد کے گڑھے اور 6245 گھریلو کھاد کے گڑھے موجود ہیں۔