آندھراپردیش میں محکمہ جات کے مشیروں کے تقر ر پر ہائیکورٹ کی برہمی

   

حیدرآباد۔20۔ جنوری (سیاست نیوز) آندھراپردیش ہائیکورٹ نے حکومت کی جانب سے مختلف محکمہ جات کیلئے مشیروں کے تقرر پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ ہائیکورٹ نے حیرت کا اظہار کیا سرکاری ملازمین کی بھلائی کیلئے ایک خصوصی مشیر کا تقرر کیا گیا ہے۔ عدالت نے کہاکہ ملازمین کے ٹی اے اور ڈی اے کی ادائیگی کیلئے مشیر کے تقرر کی کیا ضرورت ہے۔ عدالت نے کہا کہ ہر معاملہ کیلئے مشیر کے تقرر کی صورت میں ایک متبادل حکومت تشکیل پاسکتی ہے ۔ عدالت کے مطابق مشیروں کا تقرر حکومت کیلئے نقصان دہ ہے۔ چیف جسٹس آندھراپردیش ہائیکورٹ پرشانت مشرا نے انڈومنٹ ڈپارٹمنٹ کے مشیر کی حیثیت سے جے سریکانت کے تقرر سے مداخلت جی او 630 کو چیلنج کرتے ہوئے دائر کردہ درخواست کی سماعت کی ۔ مفاد عامہ کی درخواست سماجی کارکن راج شیکھر راؤ نے داخل کی تھی۔ سرکاری ملازمین کی بھلائی کیلئے این چندر شیکھر ریڈی کو مشیر کے طور پر مقرر کیا گیا جسے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔ ابتدائی سماعت میں عدالت نے مشیروں کے تقرر پر سخت اعتراض کیا تھا۔ حکومت کے مشیر چندر شیکھر ریڈی کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ مہیندرناتھ ریڈی نے عدالت میں مشیروں کے تقرر کے حق میں بحث کی ۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کی جانب سے جاری کردہ نوٹس وصول نہیں ہوئی ہے۔ عدالت نے وکیل سے کہا کہ وہ میڈیا رپورٹ کی بنیاد پر عدالت میں آنے کے بجائے مقدمات کی فہرست کا مشاہدہ کریں تو بہتر ہے۔ عدالت نے فریقین کو حلفنامہ داخل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے آئندہ سماعت 2 فروری کو مقررکی ہے۔ ر