ڈاکٹر حیدر رضا ضابط
گزشتہ چہارشنبہ یعنی 28 اگست 2026ء کو حجت الاسلام والمسلمین آغا میر جاوید علی باقری نے جو ریاست آندھراپردیش کے سب سے بڑے شہر وجے واڑہ میں مقیم ایک ممتاز شیعہ عالم ہیں آیت اللہ پروفیسر مجید حکم الہٰی عزت مآب نمائندہ متعینہ ہند برائے حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای رہبراعلیٰ اسلامیہ جمہوریہ ایران سے ملاقات کی۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ آندھراپردیش 1501 تا 1587 شیعہ و ایرانی قطب شاہی سلطنت کا حصہ رہا۔ آپ کو بتادیں کہ حجت الاسلام و المسلمین آغا میر جاوید علی باقری فی الوقت دنیا کے مشہور و معروف جوزۃ علمیہ قم میں اہلبیت اطہارؓ کی دینی تعلیمات اور شعیت سے متعلق تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ مولانا سید جاوید علی باقری آندھراپردیش کے نئے دارالحکومت امراوتی میں تعمیر کی جانے والی ایک خوبصورت اور عظیم الشان مسجد کے امام جمعہ و امام جماعت کی حیثیت سے خدمات انجام دیں گے۔ یہ عظیم الشان جامع مسجد اس اراضی پر تعمیر کی جائے گی جو حکومت آندھراپردیش نے ریاست کے شیعہ مسلمانوں کو بطور عطیہ پیش کی ہے۔ یہ مسجد ایران کے تاریخی شہر اصفہان کی مشہور و معروف تاریخی شیخ لطف اللہ مسجد کے ہوبہو ہوگی یعنی اس مسجد کے ڈیزائن پر تعمیر کی جائے گی۔ واضح رہیکہ اس منصوبہ یا پراجکٹ کو اصفہان کی صوبائی حکومت، ہندوستان میں ایران کے رہبر معظم نمائندہ خصوصی آیت اللہ پروفیسر عبدالمجید حکیم الہٰی اور آندھراپردیش میں مقیم شیعہ مسلمانوں کی حمایت حاصل ہوگی اور اس طرح مسجد کا مذکورہ پراجکٹ پائے تکمیل کو پہنچے گا۔ حجت الاسلام و المسلمین آغا سید جاوید باقری ان شاء اللہ اس عظیم الشان شیعہ مسجد کے نماز جمعہ اور نماز جماعت کے امام ہوں گے۔ آپ کو یہ بھی بتادیں کہ تاریخی شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد کو اصفہان نو کہا جاتا ہے اور جو سال 2014ء تک آندھراپردیش کا دارالحکومت رہا ہے۔ 2014ء میں متحدہ آندھراپردیش کو تقسیم کرکے تلنگانہ کو جو 1956 سے ریاست آندھراپردیش کا حصہ رہا ایک علحدہ ریاست بنادیا گیا۔ اس طرح تاریخی شہر حیدرآباد نئی ریاست تلنگانہ کا دارالحکومت بن گیا۔ 1492 سے 1687 تلنگانہ کا خطہ شیعہ و ایرانی قطب شاہی سلطنت کا حصہ رہا اور قطب شاہی سلطنت ایران میں صفوی سلطنت کی ایک باجگذار ریاست تھی جبکہ قطب شاہی دورحکمرانی میں ایرانی صفوی سلطنت کے مختلف علاقوں خاص کر ایران کے شہر اصفہان اور عراق سے ہزاروں معزز سادات خاندانوں نے ہجرت کرکے تلنگانہ اور آندھرا کے علاقوں میں آئے اور یہیں پر سکونت اختیار کرلی اور ان لوگوں نے آندھرا اور تلنگانہ کے تلگو داں غیرمسلم باشندوں اور سنی مسلمانوں میں شہداء کربلا کی یاد میں عزاداری کی۔ رسومات کو فروغ دیتے ہوئے شعیت کی تبلیغ کی آج بھی تلنگانہ اور آندھراپردیش میں پانچ صدیوں قبل قائم کئے گئے حسینئے (مراکز عزاداری) موجود ہیں اور اہم بات یہ ہیکہ ان مراکز کے مالکین اور ٹرسٹیز حضرت امام حسینؓ کے ہندو عقیدتمند ہیں۔ 5 صدیوں سے حضرت امام حسینؓ کے ہندو عقیدتمند آندھرا اور تلنگانہ کے مختلف اضلاع میں مقامی تلگو زبان میں کربلا کے عظیم شہدا کی یاد میں عزاداری کی رسومات ادا کرتے چلے آرہے ہیں۔ آپ کی اطلاع کیلئے عرض کردوں کہ آندھراپردیش میں واقع وجیانگرم کا علاقہ اور ریاست اوڈیشہ میں واقع جے پور کا علاقہ مشرقی گھاٹ کے خطہ میں دو آزاد ہندو ریاستیں تھیں تاہم انہوں نے خود کو شیعہ اور ایرانی قطب شاہی سلطنت کے تحفظ میں دے دیا تھا اور جس کا دارالحکومت حیدرآباد تھا۔ دلچسپی کی بات یہ تھی کہ مذکورہ دونوں ہندو ریاستوں میں امام حسینؓ کے ہندوعقیدتمند تلگو اور اوڑیا زبانوں میں شہدا کربلا کی یاد میں روایتی عزاداری کی رسومات ادا کرتے ہیں جو پچھلے 5 سو سال سے جاری روایت کے مطابق ہے۔ ہندوؤں کی جانب سے شہدائے کربلا کی یاد میں عزاداری کی یہ روایت ماہ محرم کی پہلی تاریخ سے دسویں تاریخ ایک انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ ان حسینیوں (مراکز عزاداری) میں ادا کی جاتی ہے جو خود ہندوؤں کی ملکیت اور ان کے ہی زیرانتظام ہے۔ آندھرا اور تلنگانہ کے مختلف اضلاع و تعلقہ جات میں شہادت امام حسینؓ کی یاد میں مقامی تلگو زبان میں ہی عزاداری کی رسومات ادا کی جاتی ہیں۔ حضرت امام حسینؓ اور بی بی فاطمہؓ کے ہندو عقیدتمند اپنے حسینیوں میں جنہیں وہ عاشورخانہ کہتے ہیں جس میں دعائیں مانگتے ہیں ان کے مطابق حضرت بی بی فاطمہ زہراؓ اور امام حسینؓ کے وسیلے سے ان کی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ ہندو عقیدتمند حضرت بی بی فاطمہؓ اور حضرت امام حسینؓ پر کامل و پختہ ایمان رکھتے ہیں اور ان کا عقیدہ ہیکہ وہ ان دونوں معصومین سے جو کچھ طلب کرتے ہیں وہ تمام چیزیں انہیں عطا ہوجاتی ہیں۔ یہ بھی ایک دلچسپ امر ہیکہ گزشتہ 500 سال سے وجیانگرم کی پسایتی راجو سلطنت کے شاہی دربار کے پرچم میں حضرت امام علیؓ کی تلوار ذوالفقار کی تصویر بنی ہوئی ہے لیکن 1687 میں انتہائی طاقتور مغل بادشاہ اورنگ زیب عالمگیر نے جو جنوبی ہند کی شیعہ اور ایرانی حکومت کے بارے میں سخت گیر خیالات رکھتے تھے اور ان کے مخالف تھے ایرانی قطب شاہی سلطنت کے خلاف 32 سالہ جنگ شروع کی اور اس وقت بھی قطب شاہی سلطنت کا دارالحکومت شہر حیدرآباد یا اصفہان نو ہی تھا۔ مطلق العنان أمر بادشاہ اورنگ زیب نے دکن ؍ جنوبی ہند میں ایرانی سلطنت کا خاتمہ کردیا۔ مغل فوج کے ہاتھوں بڑی تعداد میں شیعہ افراد کا قتل کیا گیا ساتھ ہی ان کی جائیدادیں لوٹ لی گئیں۔ املاک ضبط کی گئیں۔ ان حالات میں آندھرا اور تلنگانہ کے قطب شاہی علاقوں میں موجود شیعوں کی اکثریت نے اپنی جانیں اور مال بچانے کیلئے اپنی شناخت بدل دی۔ کہا جاتا ہیکہ خود کو سنی ظاہر کیا۔ دوسرے آندھرا اور کرناٹک کے دوردراز علاقوں کی طرف ہجرت کر گئے جس میں علی پور اور شیعہ اکثریتی مواضعات شامل تھے۔ اسی طرح آندھرا کے ناگارم اور علی ناگی پالیم جیسے دیہاتوں میں لوگ آباد ہوئے جو زیادہ تر اصفہانی نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ اس طرح اصفہانی شیعوں پر مشتمل نئے شیعہ اکثریتی مواضعات قائم کئے چنانچہ آندھراپردیش میں مقیم شیعہ آبادی کی اکثریت اصفہانی ایرانی شیعہ مہاجرین پر مشتمل ہے جبکہ ایک اقلیت ان شیعوں کی ہے جنہوں نے ایران کے خوی سے ہجرت کی تھی۔