واقعات جمہوریت اور عوام کے بنیادی حقوق پر حملہ
حیدرآباد 4 اگسٹ ( سیاست نیوز ) سابق چیف منسٹر آندھرا پردیش وائی ایس جگن موہن ریڈی نے کہا کہ آندھرا پردیش میں گذشتہ دو مہینوں میں لاقانونیت کو عروج حاصل ہوا ہے اور ریاست سیاسی انتقام کا مرکز بن گئی ہے ۔ انہوں نے آندھرا پردیش کے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس سیاسی انتقامی تشدد کی مخالفت میں وائی ایس آر کانگریس کے ساتھ ہو جائیں۔ سوشیل میڈیا ’ ایکس ‘ پر آج ایک پوسٹ کے ذریعہ ریاست کی لا اینڈ آرڈر کی صورتحال پر جگن موہن ریڈی نے تشویش کا اظہار کیا ۔ جگن موہن ریڈی نے کہا کہ یہ تشویش کی بات ہے کہ آندھرا پردیش میں حکمرانی کی صورتحال ابتر ہوگئی ہے ۔ یہاں گدشتہ دو مہینوں میں لا قانونیت اور سیاسی تشدد بڑھ گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ آندھرا پردیش اب سیاسی تشدد کا مرکز بن گیا ہے اور صورتحال میں بہتری کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اغراض پر مبنی تشدد کے واقعات ہر روز پیش آ رہے ہیں اور برسر اقتدار جماعت کے قائدین اس کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس سلسلہ میں حال میں نندیال ‘ جگیا پیٹ اور این ٹی آر ضلع میں پیش آئے کچھ واقعات کی مثال پیش کی اور کہا کہ یہ رجحان تشویشناک ہے ۔ جگن نے الزام عائد کیا کہ سیاسی مخالفت کو ختم کرنے کیلئے یہ روش اختیار کی جا رہی ہے جو افسوسناک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات جمہوریت اور ریاست کے عوام کے بنیادی حقوق سلب کرلینے کے مترادف ہیں۔