آن لائن کلاسیس کے خاطرخواہ نتائج برآمد نہیں ہوسکے

   

سرکردہ اسکولس کا خانگی ٹیوشن سے معاہدہ، تعلیم کے معیار بہتر بنانے پر توجہ

حیدرآباد۔18جولائی (سیاست نیوز) کورونا وائر س کے دور تعلیم متاثر ہونے کے اثرات اب ظاہر ہونے لگے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ آن لائن کلاسس کے کوئی خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے ہیں اسی لئے اب شہر کے سرکردہ اسکولوں کی جانب سے ٹیوشن اداروں سے معاہدہ کرتے ہوئے طلبہ پر خصوصی توجہ دینے کی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے اور کہا جارہا ہے کہ جاریہ تعلیمی سال کے نتائج کو بہتر بنانے کے لئے جاری اقدامات میں تعلیمی ادارو ںنے ٹیوشن کلاسس اور انسٹیٹیوٹ سے رابطہ کرتے ہوئے ان کے ساتھ معاہد ہ کرنے کے اقدامات شروع کردیئے ہیں تاکہ طلبہ کی جو تعلیم متاثر ہوئی ہے اس کے برج کورس یا مختصر مدتی کلاسس کے ذریعہ ان کی پابجائی کو یقینی بنایا جاسکے۔ حیدرآباد کے ایک سرکردہ اسکول کے ذمہ دار نے بتایا کہ اسکولوں کی باضابطہ کشادگی کے بعد منعقد ہونے والے امتحانات کے نتائج میں طلبہ کے مظاہرہ کے بعد سے ہی اساتذہ نے طلبہ کے لئے خصوصی کلاسس کی سفارش کرنی شروع کردی تھی لیکن انہیں ابتدائی طور پر نظرانداز کیا جاتا رہا لیکن اب صورتحال سے واقفیت کے بعد اسکولوں کے انتظامیہ کی جانب سے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اور اسی منصوبہ کے تحت خانگی اسکولوں کے ذمہ داروں نے ٹیوشن اور انسٹیٹیوٹ سے معاہدہ کرتے ہوئے معیار تعلیم کو بہتر بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ ریاست میں سرکردہ اسکولوں کے انتظامیہ نے 6ویں تا9ویں جماعت کے طلبہ کے نتائج کو دیکھتے ہوئے اس منصوبہ بندی کا آغاز کیا تھا اور اس سلسلہ میں کئی اسکولوں نے برج کورس اور مختصر مدتی کورس کی تیاری کے سلسلہ میں بھی اقدامات شروع کئے جا چکے ہیں۔خانگی اسکولوں میں خدمات انجام دینے والے اساتذہ کا کہناہے کہ اسکولو ںمیں اضافی کلاسس کے انعقاد یا ٹیوشن کی سہولت فراہم کئے جانے پر عائد امتناع کے سبب انتظامیہ کی جانب سے خانگی ٹیوشن اور سہولتوں سے طلبہ کو مربوط کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔خانگی اسکولوں کی جانب سے ٹیوشن اور انسٹیٹیوٹ کلچر کے فروغ پر اولیائے طلبہ کی جانب سے اعتراض کیا جا رہاہے جبکہ اساتذہ کا کہناہے کہ اگر طلبہ کو مسابقتی میدان میں برقراررکھنا ہے تو ان کی تعلیمی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لئے خصوصی توجہ دی جانا ضروری ہے۔م