آپریشن سندور کے بعد جنگ بندی کا پہلا اعلان امریکہ نے کیا

   

ٹرمپ کے بار بار دعوے، مودی حکومت نے کبھی تردید نہیں کی:کانگریس

نئی دہلی، 7 مئی (یو این آئی) کانگریس کے شعبئہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعرات کو یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ آج آپریشن سندور کی پہلی برسی ہے ۔ یہ موقع ہماری مسلح افواج کی بہادری، جرأت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سلام پیش کرنے کا ہے ، لیکن اس کے ساتھ کچھ اہم حقائق کو فراموش نہیں کیا جا سکتا اور انہیں یاد رکھنا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال 10 مئی کو جنگ بندی کا پہلا اعلان امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کیا تھا اور اس کا سہرا صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی مداخلت کو دیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد ٹرمپ نے مختلف مواقع پر فوجی کارروائی رکوانے کا دعویٰ دہرایا، لیکن وزیر اعظم نریندر مودی نے عوامی طور پر کبھی اس دعوے کی تردید نہیں کی۔ جئے رام رمیش نے کہا کہ اس کے بعد 30 مئی کو سنگاپور میں چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انل چوہان نے اعتراف کیا تھا کہ ابتدائی مرحلے میں بعض حکمتِ عملی کی غلطیوں کی وجہ سے ہندستان کو نقصان اٹھانا پڑا، تاہم بعد میں حکمتِ عملی میں بہتری لا کر پاکستان کے اندر درست کارروائیاں کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ 10 جون 2025 کو جکارتہ میں ہندستانی سفارت خانے کے ڈیفنس اتاشی نے بھی یہ تسلیم کیا تھا کہ سیاسی قیادت کی جانب سے مقرر کردہ حدود کے باعث ہندستان نے اپنے کچھ طیارے کھو دیے تھے ۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ 4 جولائی 2025 کو نائب سربراہِ فوج لیفٹیننٹ جنرل راہل نے پاکستان کی کارروائیوں میں چین کے کردار کی طرف اشارہ کیا تھا۔ ان کے مطابق چین نے پاکستان کو سازوسامان، گولہ بارود، سیٹلائٹ تصاویر اور ریئل ٹائم ٹارگٹنگ میں مدد فراہم کی۔ کانگریس نے الزام لگایا کہ اس کے باوجود مودی حکومت چین کے معاملے میں نرم رویہ اپنائے ہوئے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندستان کی وسیع سفارتی مہم کے باوجود پاکستان عالمی سطح پر اس طرح تنہا نہیں ہوا، جیسے 2008 کے ممبئی حملوں کے بعد ہوا تھا۔ کانگریس نے کہا کہ پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر کو امریکی قیادت کی جانب سے مسلسل حمایت اور اہمیت حاصل ہو رہی ہے ۔ انہوں نے یاد دلایا کہ کارگل جنگ کے بعد اُس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی حکومت نے اسٹراٹیجک امور کے ماہر کے۔ سبرامنیم کی سربراہی میں کارگل جائزہ کمیٹی تشکیل دی تھی، جس نے مستقبل کے لیے تجاویز پیش کرتے ہوئے اپنی رپورٹ پارلیمنٹ میں جمع کرائی تھی۔ کانگریس نے مطالبہ کیا کہ آپریشن سندور سے متعلق واقعات کا بھی اسی طرز پر جامع جائزہ لیا جانا چاہ