نئی دہلی : عام آدمی پارٹی (اے اے پی) نے آج کو مرکزی حکومت پر حملہ بولا اور ملک بھر میں غیر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومتوں کو گرانے کے لئے مبینہ طورپر چلائے جارہے ‘آپریشن لوٹس’ کی سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) سے جانچ کرانے کا مطالبہ کیا۔اے اے پی ایم ایل اے آتشی مارلینا نے دہلی اسمبلی اجلاس کے چوتھے دن ایوان میں کہا، ‘‘ہم ‘آپریشن لوٹس’ کی سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کر رہے ہیں کیونکہ مرکزی حکومت غیر بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں میں حکومت گرانے کی کوشش کر رہی ہے۔”مارلینا نے ایوان کو بتایا کہ اے اے پی ممبران اسمبلی نے ‘آپریشن لوٹس’ کی تحقیقات کے لیے سی بی آئی کے ڈائریکٹر سے ملنے کا فیصلہ کیا ہے ، جومبینہ طور پر بی جے پی کی طرف سے دوسری پارٹیوں کی حکومت والی ریاستوں میں حکومتوں کے خلاف چلایا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا، “آج اے اے پی ممبران اسمبلی کا ایک وفد سی بی آئی کے ڈائریکٹر سے ملاقات کرے گا اور ‘آپریشن لوٹس’ کی تحقیقات کا مطالبہ کرے گا۔”انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ جب اتنے اہم مسئلے (تحریک اعتماد) پر بحث ہو رہی ہے تو بی جے پی ایوان میں ہنگامہ کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے ‘آپریشن لوٹس’ کے ذریعے دہلی میں منتخب حکومت کو گرانے کی کوشش کی۔ آپریشن تین مراحل پر مشتمل ہے ۔انہوں نے الزام لگایا، “پہلے ، وہ غیر بی جے پی کی حکمرانی والی ریاستوں میں اپنے مخالفین کے خلاف مرکزی تفتیشی ایجنسیوں کا استعمال کرتے ہیں، پھر انہیں بتاتے ہیں کہ اگر وہ پارٹی بدلتے ہیں تو مقدمات واپس لے لیے جائیں گے اور تیسرا وہ ایم ایل اے کو رقم کی پیشکش کرتے ہیں۔”اس سے پہلے دن میں ہنگامہ آرائی کی وجہ سے بی جے پی کے ارکان کو مارشل کے ذریعے ایوان سے باہر کردیاگیا۔اے اے پی ایم ایل اے درگیش پاٹھک نے ’آپریشن لوٹس‘ کی سی بی آئی انکوائری کے مطالبے کی حمایت کی۔
انہوں نے کہا، ”میں سی بی آئی انکوائری کا مطالبہ کرتا ہوں تاکہ لوگوں کے سامنے سچائی آسکے ۔ ایوان کی کارروائی جمعرات گیارہ بجے تک ملتوی کر دی گئی۔