کے سی آر کے طریقہ کار پر سوال، حکومت کے وکیل کے اظہار افسوس سے معاملہ کی یکسوئی
حیدرآباد۔/16 نومبر، ( سیاست نیوز) ٹی آر ایس ارکان اسمبلی خریدی معاملہ کو عدلیہ سے رجوع کرنے کی چیف منسٹر کے سی آر کی کوششوں کو اس وقت دھکہ لگا جب چیف جسٹس تلنگانہ ہائی کورٹ جسٹس اجل بھویاں نے چیف منسٹر کی جانب سے روانہ کردہ آڈیو اور ویڈیو سی ڈی اور دیگر میٹریل پر ناراضگی جتائی۔ واضح رہے کہ چیف منسٹر نے چیف جسٹس آف انڈیا اور ملک کی تمام ہائی کورٹس کے چیف جسٹسوں کو ارکان اسمبلی کی خریدی معاملت کے بارے میں ثبوت کے طور پر آڈیو اور ویڈیو فوٹیج روانہ کیا تھا۔ اس معاملہ میں داخل کردہ اپیل کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے سینئر کونسل دوشنت داوے پر ناراضگی جتائی جو ریاستی حکومت کی جانب سے پیش ہوئے تھے۔ چیف جسٹس اجل بھویاں نے کہا کہ میرے آفس کو ٹی آر ایس کے صدر کی جانب سے ایک پارسل موصول ہوا، اور جب اسے کھولا گیا تو اس میں بعض میٹریل پایا گیا تاہم میں نے میرے آفس اسٹاف کو اسے دوبارہ مہربند کرتے ہوئے ہٹادینے کی ہدایت دی۔ ٹی آر ایس کے صدر نے یہی میٹریل دیگر ہائی کورٹس کے چیف جسٹسوں کو روانہ کیا ہے۔ ایک چیف جسٹس نے مجھے فون کرتے ہوئے اس بارے میں معلومات حاصل کیں۔ جسٹس اجل بھویاں نے سوال کیا کہ کیا یہ طریقہ پولیس کی جانب سے اپنی تحقیقاتی تفصیلات پیش کرنے کے مترادف نہیں ہے۔ انہوں نے سرکاری وکیل سے پوچھا کہ آپ اسے کیسے دیکھتے ہیں۔ سینئر کونسل داوے نے بنچ سے تاسف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہیں ہونا چاہیئے تھا۔ داوے نے یہاں تک کہا کہ وہ جو کچھ بھی ہوا اُس سے ناراض ہیں اور یہ ایک غیر صحتمندانہ طریقہ کار ہے۔ دوسری طرف بی جے پی کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل ویدیا ناتھن چتمبرم نے کہا کہ اس معاملہ کو آسانی سے نہیں لیا جانا چاہیئے، یہ طریقہ کار عدلیہ پردباؤ بنانے کی کوشش ہے، اس معاملہ میں توہین کی کارروائی ہونی چاہیئے۔ جس پر چیف جسٹس نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ر