سنجیدہ امور پر تبادلہ خیال سے سوشل میڈیا کی اہمیت و افادیت میں اضافہ
حیدرآباد۔24۔مارچ(سیاست نیوز) سوشل میڈیا کے دور میں کئی بے ہودہ مسئلوں پر مباحث کے دوران بعض نہایت ہی سنجیدہ امور پر بھی تبادلہ خیال ہونے کے سبب سوشل میڈیا کی اہمیت و افادیت باقی رہنے لگی ہے۔ آئمہ و موذنین کی تنخواہوں کے مسئلہ پرگذشتہ کئی برسوں سے سوشل میڈیا پرطویل بحث جاری ہے اور آئمہ و موذنین اور خطیب حضرات کو ادا کیئے جانے والے مشاہرہ کے سلسلہ میں یہ کہا جا رہاہے انہیں سالانہ 2 فیصد بھی مشاہرہ میں اضافہ نہیں کیا جاتا بلکہ ان سے اس بات کی توقع کی جاتی ہے کہ وہ اس تنخواہ میں بہتر زندگی گذارتے ہوئے امامت بھی کریں اور مسجد کی خدمت بھی کریں ۔مساجد کی انتظامی کمیٹیوں کی جانب سے آئمہ کی قلیل تنخواہوں کا مسئلہ سوشل میڈیا پر مختلف تنظیموں اور شخصیتوں کی جانب سے پورے شد و مد کے ساتھ اٹھا یا جا رہا ہے اور یہ مسئلہ واقعی ہے بھی کافی سنگین کیونکہ آئمہ و موذنین کی خدمات کی اجرت کے نام پر دی جانے والی اجرت اور مساجد کے دیگر اخراجات کا جائزہ لیا جائے تو سب سے کم خرچ ان دو اہم ذمہ داروں کی تنخواہوں پر ہوتا ہے۔دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد کی کئی مساجد میں تزئین نو آہک پاشی کے علاوہ سنگ مرمر کی دیواروں کی تعمیر کے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور اس پر لاکھوں روپئے خرچ کئے جا رہے ہیں جبکہ مساجد میں خدمات انجام دینے والے آئمہ ‘ خطیب اور موذنین کی تنحواہیں انتہائی معمولی ہیں اور بعض مقامات پر تو یہ تنخواہیں 5000تا6000 تک محدود ہیں اور زیادہ سے زیادہ آئمہ و موذنین کو ادا کی جانے والی تنخواہیں 18تا 20 ہزار روپئے تک ہیں جو بہت ہی کم مساجد میں ہیں۔آئمہ مساجد کا کہناہے کہ وہ پیشہ امامت سے وابستہ ہیں اور یہ وصف پیغمبری ہے لیکن ان کی ضروریات بھی ہوتی ہیں اس کا خیال کیا جانا چاہئے لیکن اکثر ایسا نہیں ہوتا جبکہ شہر حیدرآباد و سکندرآباد میں پیشہ امامت و موذن سے وابستہ محترم شخصیات کو کوئی تعطیل نہیں ہے اور نہ ہی انہیں کوئی بااجرت تعطیل حاصل ہوتی ہے اس کے باوجود بھی ان کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا بلکہ ان کے ساتھ درجہ چہارم کے ملازمین جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ پیشہ امامت سے وابستہ اکثریت متوسط اور غریب طبقہ سے تعلق رکھنے والے حفاظ اور علماء کی ہوتی ہے لیکن ان کا مقام و مرتبہ ان کی اقتداء میں کھڑے ہونے والوں سے کافی بلند ہے اس بات کا احساس کرنا امت کی ذمہ داری ہے صرف کمیٹی پر انحصار کرتے ہوئے مسئلہ کو نظر انداز کیا جانا درست نہیں ہے اسی لئے آئمہ و موذنین کے مقام و مرتبہ کا پاس و لحاظ رکھتے ہوئے ان کی ضروریات کی تکمیل اور انہیں آرام دہ زندگی کی فراہمی پر توجہ مرکوز کی جانی چاہئے ۔آئمہ و مؤذنین کا کہناہے کہ ان کے بھی بچے ہوتے ہیں اور وہ بھی اسکول یا کالج میں تعلیم حاصل کر رہے ہوتے ہیں لیکن ان کی فیس کے انتظام کے لئے کوئی خصوصی نظم نہیں ہے اور نہ ہی اس کے متعلق کوئی غور کر رہا ہے جبکہ ان کی اور ان کے افراد خاندان کی صحت سے جڑے مسائل بھی دیگر عام انسانوں کی طرح سر اٹھاتے ہیں لیکن ان کے علاج و معالجہ کے لئے کوئی خصوصی سہولت نہیں ہے اور نہ ہی وہ انہیں حاصل ہونے والے مشاہرہ میں کوئی ماہر امراض ڈاکٹر سے علاج کروانے کے متحمل ہوتے ہیں۔3