خود محبان مجلس میں بے چینی ۔ شہر کے حالات پر ہی گرفت بحال کرنے پارٹی قیادت کو سوشیل میڈیا پر مشورے
حیدرآباد۔20۔اکٹوبر(سیاست نیوز) اترپردیش اسمبلی انتخابات میں مجلس اتحاد المسلمین 400 میں 200 نشستوں پر مقابلہ کرے گی!اترپردیش انتخابا ت میں مجلس کے حصہ لینے کے اعلان پر مختلف گوشوں سے تنقید کی جارہی ہے اور سوشل میڈیا پر صدر مجلس بیرسٹر اسدالدین اویسی کو محبان مجلس کی جانب سے مشورے دیتے ہوئے ان سے خواہش کی جا رہی ہے کہ وہ شمالی ہند میں مجلس کو مستحکم بنانے اور جن لوگوں کو مسلمانوں کا قائد بنانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ ترک کردیں کیونکہ شمالی ہند کے بیشتر وہ مجلسی قائدین جن کو اہم ذمہ داریاں تفویض کی گئی ہیں وہ جماعت کے استحکام کے بجائے اپنے استحکام پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں اور انہیں’جماعت ‘ سے کوئی ہمدردی یا وابستگی نہیں ہے۔ محبان مجلس بالخصوص نوجوانوں کی جانب سے Xپر مشوروں میں شہر میں رکن کونسل مرزارحمت بیگ کے مستعفی نہ ہونے اور ایک رکن اسمبلی کے خلاف کوئی کاروائی نہ کئے جانے کا حوالہ دے کر حیدرآباد میں ہی مجلسی قیادت کی گرفت کے کمزور ہونے پر متوجہ کروایا جا رہاہے اور کہا جارہاہے کہ اگر مجلسی قیادت شہر میں اپنی گرفت کھودیتی ہے تو حالات ابتر ہوجائیں گے۔ تلنگانہ کے سیاسی مبصرین کا کہناہے کہ مرزا رحمت بیگ کو بدفعلی اور جنسی بے راہ روی کے الزام میں پارٹی سے خارج کرکے انہیں کونسل رکنیت سے مستعفی ہونے کی ہدایت کے باوجود ان کا مستعفی نہ ہونا پارٹی میں بحران کی نشاندہی کررہا ہے لیکن اس بحران سے نمٹنے کی صدر مجلس اترپردیش انتخابات میں حصہ لینے کی تیاریوں میں مصروف ہیں اور قائد ایوان جناب اکبر الدین اویسی کے بھی ملک میں نہ رہتے ہوئے حالات کو معمول کے مطابق ظاہر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اترپردیش کی صوبائی قیادت پر وہاں متعدد الزامات لگائے جارہے ہیں ۔ کہا جارہاہے کہ یو پی میں مجلس کو ملی سطح پر مسترد کیا جانے لگا ہے ۔ بہار مجلس میں اختلافات بھی سوشل میڈیا پر گشت کر رہے ہیں بلکہ بنگال انتخابات میں مجلس اور ہمایوں کبیر کے اتحاد میں کلیدی کردار ادا کرنے والے ایک قائد کی وائرل آڈیو میں کئے جانے والے دعوے محبان مجلس کو تشویش میں مبتلاء کرنے لگے ہیں ۔ اس وائرل آڈیوکے بعد انہیں جماعت سے جاری نوٹسیں اوران کا جواب دینے کے بجائے ٹکراؤ کی صورتحال سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ مجلسی قیادت کو محض اپنے شہر میں رحمت بیگ کے مسئلہ کا سامنا نہیں بلکہ بہار اور اترپردیش میں بھی پارٹی قائدین کے درمیان اختلافات سے مسائل کا سامنا ہے ۔ ابتداء میں کہا جارہاتھا کہ یو پی میں مجلس 40 حلقہ جات اسمبلی پر مقابلہ کا منصوبہ تیار کر رہی ہے لیکن اب جو اشارے دیئے جارہے ہیں ان کے مطابق مجلس اپنی دیگر حلیف جماعتوں کے ساتھ 200 نشستوں پر مقابلہ کی حکمت عملی تیار کرنے میں مصروف ہے۔واضح رہے کہ اترپردیش اسمبلی کے گذشتہ انتخابات میں مجلس نے 97 امیدار میدان میں اتارے تھے لیکن ایک بھی حلقہ پر مجلس کو کامیابی نہیں ملی تھی۔3/k/b