اترپردیش ‘ ماحول بگاڑا جا رہا ہے

   

صدیوں سے ایک جان تھے کس آن بان سے
رشتے کہاں چلے گئے سب درمیان سے
ملک کی سب سے بڑی اور سیاسی اعتبار سے اہمیت کی حامل ریاست اترپردیش میں آئندہ چند مہینوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے اپنے اپنے طور پر تیاریوں کا آغاز کردیا گیا ہے ۔ ہر جماعت سیاسی ماحول کو اپنے موافق بنانے کیلئے کوشش کر رہی ہے اور عوام کی تائید حاصل کرنے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔ جہاں تک موجودہ آدتیہ ناتھ حکومت کا سوال ہے تو اس کی جانب سے اقتدار پر برقراری کیلئے محض فرقہ وارانہ منافرت کے کھیل کو ہی ہوا دینے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ سہارنپور میں ایک سو سال سے زائد عرصہ سے موجود مسجد کو غیر قانونی قرار دے کر عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کا موقع دئے بغیر چند گھنٹوں کے اندر مسمار کردیا گیا ۔ مسجد کو شہید کرکے ہی دم لیا گیا ۔ اس کے بعد اب مراد آباد کی ایک اور مسجد کے تعلق سے ماحول تیار کیا جا رہا ہے ۔ مراد آباد کی مسجد مصطفی کو بھی نوٹس جاری کردی گئی ہے ۔ کہا گیا ہے کہ 300 گز سرکاری اراضی پر غیر مجاز طور پر یہ مسجدتعمیر کی گئی ہے ۔ مسجد کمیٹی سے کہا گیا ہے کہ وہ اندرون پندرہ دن مسجد کا تخلیہ کرتے ہوئے عمارت کو منہدم کردے بصورت دیگر انتظامیہ کی جانب سے انہدامی کارروائی کی جائے گی اور اراضی کو سرکاری قبضہ میںلے لیا جائے گا ۔ یہ ایک طریقہ کار بنالیا گیا ہے اور عدالتوں کو گمراہ کرتے ہوئے توڑ مروڑ کر ثبوت پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور عدالتوں سے احکام حاصل کرتے ہوئے کسی اپیل کا موقع دئے بغیر مسجدوں کو منہدم کرنے اور شہید کرنے کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے ۔ یہ در اصل آدتیہ ناتھ حکومت کی انتخابی تیاری ہے اور ریاست کے ماحول کو فرقہ وارانہ منافرت کا شکار کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ آدتیہ ناتھ حکومت کے پاس عوام کی دوبارہ تائید حاصل کرنے کیلئے کوئی کارنامے نہیں ہے اور نہ ہی عوام کی فلاح و بہبود کے کاموں کا کوئی ریکارڈ ہے ۔ اسی لئے مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ سیاسی اور انتخابی فائدہ کیلئے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو قربان کیا جارہا ہے ۔
گذشتہ پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی نے رام مندر کی تعمیر کی دہائی دیتے ہوئے عوام سے ووٹ مانگا تھا لیکن ریاست کے عوام نے اسے مسترد کردیا اور بی جے پی کو لوک سبھا حلقہ ایودھیا ہی میں شکست سے دوچار کردیا تھا ۔ بی جے پی کو اس بار بھی مندر کا مسئلہ بھاری پڑسکتا ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے رام مندر میں چندہ چوری اور چڑھاوا چوری کے مسئلہ کو اجاگر کیا گیا ہے جس سے بی جے پی کی ہندوتوا پالیسی ٹھپ ہونے لگی تھی اور لوگ بی جے پی کے ہندوتوا کے دعووں پر ہی شکوک کرنے لگے تھے ۔ بی جے پی سے سوال کیا جا رہا تھا ۔ اس صورتحال میں بی جے پی حالات کو بگاڑنے اور عوام کی توجہ مندر کی چندہ چوری اور چڑھاوا چوری سے ہٹانے کی کوشش کرنے کے سواء کوئی اور راستہ نظر نہیں آ رہا ہے اور شائد یہی وجہ ہے کہ ایک بار پھر سے ریاست میں مسجدوں کو نشانہ بنانے کا عمل شروع کردیا گیا ہے ۔ قانونی عمل کی تکمیل کا موقع دئے بغیر مسجدوں کو مسمار کیا جا رہا ہے اور اس کے ذریعہ بی جے پی فرقہ وارانہ جذبات کو مشتعل کرتے ہوئے فائدہ اٹھانے کے منصوبے پر عمل کرتی نظر آرہی ہے ۔ بی جے پی کی یہ روش خطرناک ہے ۔ یہ ملک کے دستور اور آئین کی خلاف ورزی ہے ۔ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کرنے کی کوشش ہے اور اقلیتوں کے حقوق کو تلف کرنے کی سوچی سمجھی سازش ہے ۔ اس طرح کی کوششوں سے یو پی حکومت اور بی جے پی دونوں ہی کو گریز کرنے کی ضرورت ہے ۔
جہاں تک اترپردیش کے عوام کا سوال ہے تو انہیں اس حقیقت کو سمجھنا چاہئے کہ بی جے پی اپنی ناکامیوں اور اپنے حاشیہ برداروں کے کالے کرتوت کو چھپانے کیلئے مسلمانوں اور ان کی عبادتگاہوںکو نشانہ بنا رہی ہے اور مساجد کو مسمار کیا جا رہا ہے ۔ ایسی کوششیں کرنے والوں سے ہوشیار اور چوکس رہنے اور انہیں اور ان کے عزائم دونوں کو ناکام بنانا چاہئے ۔ عوام کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کرنے والی طاقتوں کے جال میں پھنسے بغیر عقل و ہوش کا استعمال کرتے ہوئے ایسے عناصر کو سبق سکھانا چاہئے ۔