اترپردیش کی سیاست میں مجلس کو کافی اہمیت

   

نام نہاد سیکولر سیاسی جماعتوں میں خوف و ہراس کا ماحول
لکھنؤ۔27ستمبر(سیاست نیوز) اتر پردیش کی سیاست میں مجلس کو کافی اہمیت حاصل ہونے لگی ہے اور نام نہاد سیکولر سیاسی جماعتوں میں خوف وہراس پایا جانے لگا ہے۔ اترپردیش میں جہاں ذات پات اور طبقات کی سیاست کو کافی اہمیت دی جاتی ہے اب اترپردیش میں مجلس اتحادالمسلمین کی جانب سے سرگرم سیاست میں حصہ لینے کے نتیجہ میں ریاست کی دلت اور پسماندہ طبقات کے نام پر سیاست کرنے والے قائدین میں تشویش کی لہر پائی جانے لگی ہے۔ دلت اور پسماندہ طبقات کے نام پر سیاست کرنے والے قائدین معاشی و سماجی پسماندگی کا شکار طبقات کے ساتھ اترپردیش کے 19 فیصد مسلمانوں کے ووٹ پر بھی اپنا حق جتاتے ہوئے ان کے حصول کی کوشش کیا کرتے تھے لیکن اب مجلس کی جانب سے آئندہ سال کے اوائل میں ہونے والے انتخابات میں حصہ لینے کے لئے کی جانے والی زور و شور سے تیاریوں اور صدرمجلس بیرسٹر اسد الدین اویسی رکن پارلیمنٹ حیدرآباد کی اترپردیش میں انتخابی مہم سے یہ بات واضح ہونے لگی ہے کہ دلت اور پسماندہ طبقات کے نام پر سیاست کرنے والی جماعتوں بالخصوص سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی پر اس کا کافی گہرا اثر پڑے گا کیونکہ علاقی جماعتوں کو اترپردیش کے مسلمانو ںکی تائید حاصل ہوا کرتی تھی لیکن اب مجلس 19 فیصد ووٹ پر نگاہیں مرکوز کئے ہوئے ہیں۔ بہار اسمبلی انتخابات میں مجلس کی 5 نشستوں پر کامیابی نے بہار میں راشٹریہ جنتا دل ‘ کانگریس کو اقتدار سے دور رکھنے میں اہم کردار ادا کیا اور بہار میں مجلس کا کھاتہ کھلنے کے بعد صورتحال تبدیل ہونے لگی ہے اور شمالی ہندستان میں مجلس اتحادالمسلمین کو قبول کیا جانے لگا ہے۔ اترپردیش میںبیرسٹر اسد الدین اویسی نے فیض آباد(ایودھیا) سے انتخابی مہم کا آغاز کردیا ہے اور اس سے قبل انہوں نے ریاست میں جاٹ ‘ یادو ‘ راج بھر اور نشاد طبقات کے قائدین سے ملاقاتیں کرتے ہوئے اپنے سیاسی منصوبہ سے واقف کرواتے ہوئے ریاست اترپردیش کی 403 میں 100 نشستوں پر مجلس کے امیدوار میدان میں اتارنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا ۔اترپردیش میں 82 اسمبلی نشستیں ایسی ہیں جہاں مسلمان بادشاہ گر کا موقف رکھتے ہیں اور ان نشستوں پر سیکولر جماعتوں کی کامیابی کو اب تک یقینی بنایا جاتا رہا تھا لیکن گذشتہ اسمبلی انتخابات میں بھی مجلس کے امیدواروں کے میدان میں ہونے کے سبب سماج وادی پارٹی کو 2000 ووٹوں سے بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اب ان سیاسی جماعتوں کے قائدین کا کہناہے کہ اگر مجلس 100 امیدوار میدان میں اتارتی ہے تو ایسی صورت میں مسلم ووٹ پر کوئی ایک سیاسی جماعت اپنا حق جتا نے کے موقف میں نہیں ہوگی اور مجلس کے امیدواروں کو بھی مسلمانو ںکے مکمل ووٹ حاصل نہیں ہوپائیں گے جبکہ بیرسٹر اسدالدین اویسی کی جانب سے اترپردیش کے مسلمانوں کو سیاسی استحصال سے محفوظ رہتے ہوئے متحدہ طور پر 19فیصد کی طاقت کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کی جا رہی ہے۔م