احتجاجیوں سے دشمنوں جیسا سلوک !

   

کچھ لوگ سمجھتے ہیں اپنا بھی پرایا ہے
دشمن بھی مگر مجھ کو لگتا ہے کہ اپنا ہے
جس وقت سے نوجوان اور طلباء ہزاروں کی تعداد میں دہلی کے جنتر منتر پر جمع ہوکر مرکزی حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے تھے اس وقت سے ہی ان نوجوانوں کے خلاف مہم شروع کرنے کی کوشش کی گئی تھی ۔ کچھ گودی میڈیا عناصر کی جانب سے تو کچھ بکاؤ سوشیل میڈیا انفلوئنسرس کی خدمات بھی حاصل کی گئی تھیں ۔ نوجوانوں اور ان کے احتجاج کو بدنام اور رسواء کرنے کی کوششیں حسب روایت کی گئی تھیں لیکن یہ کوششیں طلباء کی طاقت اور ان کی مہم کے آگے بے اثر اور ناکارہ ثابت ہوگئیں۔ حکومت یا اس کے حواریوں کی جانب سے جتنی بھی کوشش اس احتجاج کو روکنے یا اس کے اثر کو کم کرنے کی کی گئی تھیں اتنی ہی یہ احتجاج کامیاب رہا تھا ۔ اتناہی مقبول ہوتا گیا تھا ۔ اتنی ہی تعداد میں نوجوان اس میںشامل ہوتے گئے تھے اور بالآخر صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے حکومت کو ان کا مطالبہ ماننا پڑا اور وزیر تعلیم کی حیثیت سے دھرمیندر پردھان نے استعفی پیش کردیا ۔ حکومت نے بھی حالات اور موقع کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے احتجاجیوں کے ساتھ بات چیت کی تھی ۔ انہیں یقین دہانی کروائی گئی تھ کہ طلباء اور احتجاجیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی اور مستقبل میں بھی انتقامی اقدامات سے گریز کیا جائے گا ۔ اس وعدہ کا اظہار سی جے پی کے نمائندوں نے مرکزی وزراء جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ کی موجودگی میں کیا تھا ۔ وزراء نے بھی اس بات کو تسلیم کیا تھا ۔ اس کے باوجود جیسے ہی احتجاج ختم ہوا ایسا لگتا ہے کہ حکومت اور اس کی ایجنسیوں نے انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ شروع کردیا ہے ۔ بی جے پی کے اقتدار والی ریاست بہار میں طلباء کے خلاف فائرنگ کی گئی تھی ۔ ان کے خلاف مقدمات درج کئے گئے تھے ۔ احتجاجیوں کی تائید کرنے پر اپوزیشن کے ارکان اسمبلی کو بھی حراست میں لیا گیا تھا ۔ یہی کارروائیاںآسام میں بھی کی گئیں۔ صرف احتجاج کا منصوبہ بنانے پر تین نوجوانوںکو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا ۔ بنگال میں بھی دھمکایا جا رہا ہے کہ احتجاجیوںکو ایسی سزائیں دی جائیں گی کہ ان کی سات نسلیں یاد رکھیں گی ۔
دارالحکومت دہلی میں تو ایسا لگتا ہے کہ پولیس ریاستوں کی پولیس سے ایک قدم آگے بڑھ کر کارروائی کرنا چاہتی ہے ۔راست مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کی نگرانی میں کام کرنے والی پولیس کی جانب سے احتجاج کے مقامات پر لگے ہوئے سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے احتجاجیوں کے چہروں کی اسکیننگ شروع کردی گئی ہے ۔ یہ طریقہ کار مجرمین کا پتہ چلانے کیلئے اختیار کیا جاتا ہے جو ملک کے طلباء اور نوجوانوں کے خلاف اختیار کیا جا رہا ہے ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ بی جے پی کی مرکزی حکومت طلباء و نوجوانوںکو اپنے ملک کا اثاثہ نہیں بلکہ دشمن سمجھ کر کارروائیاں کرنا چاہتی ہے ۔ حالانکہ بہار میں بھی حکومت کو طلباء کی جانب سے احتجاج کی دھمکی کے بعد گھٹنے ٹیکنے پڑے ہیں اور وہاں تمام ایف آئی آر واپس لینے اور تمام محروسین کو رہا کردینے کا اعلان کردیا گیا ہے لیکن دہلی ‘ بنگال اور آسام میں اب بھی اس طرح کی کارروائیوں کے اندیشے برقرار ہیں اور خاموشی سے کارروائیوں کا آغاز کیا جا رہا ہے ۔ اس طرح کی کوششوں سے حکومت کوگریز کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ حکومت نے اس تعلق سے پہلے ہی وعدہ کرلیا تھا اور جو نوجوان احتجاج میںشامل ہوئے تھے وہ کوئی مجرمین کا ٹولہ نہیں تھے بلکہ طلباء کی حمایت کرنا چاہتے تھے ۔ یا ان کے رشتہ دار تعلیم حاصل کر رہے تھے یا ان کے بچوں کے مستقبل کا سوال تھا یا پھر وہ ملک کے طلباء کا مستقبل نیک ‘ روشن اور تابناک دیکھنا چاہتے تھے ۔
طلباء کے چہروں کی اسکیننگ کے ذریعہ ان کی نگران یا ان کو ہراسانی کا طریقہ کار بند کیا جانا چاہئے ۔ اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہئے کہ یہ ملک کا مستقبل سنبھالنے والے نوجوان تھے جنہوں نے تعلیم سے جڑے ہوئے ایک مسئلہ پر احتجاج کیا تھا ۔ انہیں دشمن نہیں سمجھا جانا چاہئے اور ان کو ہراسانی کا سلسلہ بند کیا جانا چاہئے ۔ جو والینٹرس بھی وہاں تھے ان کے تعلق سے بھی کارروائیاں بند ہونی چاہئیں ۔ جو وعدے کئے گئے تھے ان کا احترام کیا جانا چاہئے تاکہ اعتماد کی فضاء کو پیدا ہوئی ہے اسے برقرار رکھا جاسکے ۔