وزیر اعظم نریندر مودی کی چین کے صدر جن پنگ سے باہمی ملاقات ۔ تعلقات میں پیشرفت کا جائزہ بھی لیا
نئی دہلی12 ستمبر (یو این آئی) وزیر اعظم نریندر مودی نے ہندوستان و چین کے درمیان سرحد سے متعلق معاملات سے متعلق موجودہ معاہدوں اور اتفاق رائے پر عمل کی ضرورت پر زور دیا اور کہا ہے کہ اختلافات کو تنازعات میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے ۔مودی نے برکس سربراہ اجلاس سے الگ چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ 50 منٹ تک باہمی بات چیت میں کہا کہ سرحدی علاقوں میں امن اور استحکام دو طرفہ تعلقات کیلئے ضروری بنیاد ہے ۔دونوں رہنماؤں نے اگست 2025 میں تیانجن میں ہوئی گزشتہ بات چیت کے بعد ہند-چین تعلقات میں مسلسل پیشرفت کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو اپنے تعلقات کو اسٹریٹجک اور طویل مدتی نقطئہ نظر سے دیکھنا چاہیے اور اختلافات کو تنازعہ میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ فریقوں کو 3 باتوں سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے ، جن میں باہمی احترام ، حساسیت اور باہمی مفاد شامل ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ سرحدی علاقوں میں امن اور استحکام باہمی تعلقات کی مسلسل ترقی کیلئے ضروری بنیاد ہے ۔ انہوں نے سرحد سے متعلق معاملات پر موجودہ معاہدوں اور اتفاق رائے کی فریقین سے پابندی کی ضرورت بتائی۔دونوں رہنماؤں نے وسیع تر باہمی تعلقات کے سیاسی نقطہ نظر اور دونوں ممالک کے عوام کے طویل مدتی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے سرحدی تنازعہ کے منصفانہ، مناسب و دونوں فریقوں کو قابل قبول حل کیلئے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے عوام تا عوام تعلقات میں پیشرفت پر بھی تبادلہ خیال کیا اور دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تبادلے ، کاروباری تعلقات اور عوام کی آمد و رفت کو فروغ دینے پر زور دیا۔ انہوں نے بامعنی اور پہلے سے طے شدہ بازار تک رسائی کو آسان بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ علاقائی اور عالمی امور پر مشترکہ بنیاد کو مسلسل وسیع کیا جانا چاہیے اور چیلنجوں سے نمٹنے مل کر کام کرنا چاہیے ۔ وزیر اعظم نے ہندوستان کی برکس صدارت کیلئے چین کی حمایت اور 2026 کے برکس اجلاس کی کامیابی میں تعاون کی ستائش کی۔