دھرانی میں بھی مسلم جائیدادوں کو نقصان ۔ تمام تنازعات کو حل کرنے پر زور : اسمبلی میں اکبر اویسی کا بیان
حیدرآباد 2 اگسٹ ( سیاست نیوز) آزاد ہندوستان میں جب بھی اراضی اصلاحات لائے گئے اس کا سب سے بڑا نقصان مسلمانو ںکو ہوا۔ دھرانی پورٹل کے ذریعہ بھی مسلمانو ںکی جائیدادوں کو نقصان پہنچایا گیا اس کی تنقیح کرلے درست کرنے کے اقدامات ہونے چاہئے ۔ دھرانی پورٹل میں اوقافی جائیدادوں کے تنازعہ اگر خانگی نوعیت کے ہیں تو انہیں متنازعہ اراضی کے طور پر درج کیا گیا جبکہ اگر وقف بورڈ اور حکومت کے درمیان تنازعہ ہے تو اسے سرکاری اراضی پر درج کیاگیا ہے جس کے نتیجہ میں وقف بورڈ حکومت کے ساتھ جاری اراضیات کے مقدمہ میں شکست کا سامنا کررہا ہے۔قائد مقننہ مجلس جناب اکبر الدین اویسی نے آج اسمبلی میں ’اراضیات کے اصلاحات ‘ پر مختصر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے یہ بات کہی ۔انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں کانگریس اقتدار پر آنے کی بنیادی وجہ ’دھرانی پورٹل ‘ ہے اور بی آر ایس کے اقتدار سے محروم ہونے کی وجہ بھی یہی پورٹل ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ حکومت سے جب کبھی اراضی اصلاحات کیلئے قوانین بنائے گئے اس میں مسلمانوں کو نقصان ہوا۔ انہوں نے جاگیر ابالیشن ایکٹ‘ انعام ابالیشن ایکٹ‘ اربن لینڈ سیلنگ ایکٹ کا حوالہ دیا اور کہا کہ ان تمام قوانین کے ذریعہ مسلم جائیدادوں کو نقصان ہوا۔جناب اکبر اویسی نے حکومت کو انتخابی وعدہ کی یاددہانی کرواتے ہوئے کہا کہ دھرانی مسائل کے حل کیلئے حکومت نے 100 دن کا وقت طلب کیا تھا لیکن وہ سمجھ سکتے ہیں کہ انتخابات اور دیگر مصروفیات کے سبب ایسا نہیں ہواپایاہے لیکن اب کم ازکم ان کو اندرون 100یوم حل کیا جائے ۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں اوقافی جائیدادوں کی تباہی کیلئے کوئی ایک نہیں بلکہ کانگریس ‘ بی آر ایس اور تلگودیشم تمام جماعتیں ذمہ دارہیں۔ انہوںنے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ تلنگانہ وقف بور ڈ سے گذشتہ 5 برسوں میں جن مقدمات میں شکست ہوئی ہے اس کی تفصیلات طلب کریں۔ اکبر اویسی نے دوسرے وقف سروے کی تکمیل کے باوجود گزٹ میں اندراج اور اعلامیہ کی عدم اجرائی پر کہا کہ اس سروے میں 30ہزار ایکڑ اراضی کی نشاندہی کی گئی تھی لیکن اب ان پر بھی قبضہ ہورہا ہے۔ قائد مجلس نے کہا کہ ہزاروں ایکڑ اوقافی اراضیات تباہ ہوچکی ہیں اور ان کی تباہی کے ذمہ دار اب بھی آزاد ہیں۔ اکبر اویسی نے کہا کہ چنچل گوڑہ جیل میں بھی 30ایکڑ موقوفہ اراضی موجود ہے۔ انہوںنے حکومت سے اپیل کی کہ گذشتہ حکومت میں قبرستانوں کیلئے ریاست میں مختص کی گئی اراضیات کو حوالہ کیا جائے ۔ انہوں نے بتایا کہ انعام اور جاگیر ابالیشن ایکٹ کے تحت مذہبی مقامات کے حوالہ کی گئی اراضیات کو مستثنیٰ قرار دیا گیا تھا لیکن اس کے بعد حکومت سے منادر کو دی گئی اراضیات تو محکمہ انڈومنٹ کے حوالہ کردی گئی لیکن مساجد و درگاہوں کو دی جانے والی جاگیر و انعام محکمہ مال کے حوالہ کردیئے گئے اس کو بھی فوری حل کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے بتایا کہ دھرانی پورٹل کے آغاز سے ہی ہزاروں ایکڑ اراضیات بے نامی افراد کا استعمال کرواتے ہوئے رجسٹری کروائی گئی جس کے تفصیلات ان کے پاس موجود ہیں۔ انہوں نے آئی ایم جی اکیڈمیس بھارت پرائیویٹ لمیٹیڈ کو دی گئی 850ایکڑ اراضی کے مقدمہ میں آئی ایم جی کو ناکامی کے باوجود 4ماہ کے دوران اراضی کے حصول کے اقدامات نہ کرنے پر تنقید کی اور کہا کہ اگر اسی طرح کی خاموشی اختیار کی گئی تو فریق سپریم کورٹ میں حکم التواء حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گا۔3