طلبہ تنظیموں اور اسٹیک ہولڈرس سے ملاقات کا منصوبہ، حکومت کو عجلت پسندی سے گریز کا مشورہ
حیدرآباد 6 اپریل (سیاست نیوز) حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی سے متصل 400 ایکر اراضی پر جاری تنازعہ کے سلسلہ میں کانگریس ہائی کمان نے مداخلت کرتے ہوئے تلنگانہ کی انچارج میناکشی نٹراجن کو معاملہ کی یکسوئی کا مشورہ دیا ہے۔ میناکشی نٹراجن نے حیدرآباد پہونچ کر حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی کابینی کمیٹی کے علاوہ طلبہ تنظیموں سے بات چیت کی اور اراضی سے متعلق معلومات حاصل کیں۔ میناکشی نٹراجن نے ریاستی حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ اراضی کی صفائی اور آکشن سے قبل تمام اسٹیک ہولڈرس سے بات چیت کریں اور کسی بھی معاملہ میں عجلت پسندی سے گریز کیا جائے۔ میناکشی نٹراجن نے ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا، وزیر آئی ٹی سریدھر بابو اور وزیر مال سرینواس ریڈی سے ملاقات کی اور کابینی گروپ کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ کمیٹی نے میناکشی نٹراجن کو بتایا کہ وہ طلبہ تنظیموں کے علاوہ یونیورسٹی کے ذمہ داروں سے بات چیت کریں گے۔ سیول سوسائٹی کو بھی اراضی سے متعلق حقائق واقف کرایا جائے گا۔ میناکشی نٹراجن نے علیحدہ طور پر سیول سوسائٹی گروپس اور طلبہ تنظیموں سے ملاقات کا فیصلہ کیا ہے۔ پولیس لاٹھی چارج میں زخمی ہونے والے طلبہ کی وہ عیادت کریں گی۔ میناکشی نٹراجن نے این ایس یو آئی اور یوتھ کانگریس کے کارکنوں کو ہدایت دی کہ وہ حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے طلبہ سے ملاقات کریں۔ اِسی دوران میناکشی نٹراجن نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ کنچا گچی باؤلی کی 400 ایکر اراضی خالص سرکاری ہے۔ گزشتہ 21 برسوں میں قانونی جدوجہد کے بعد سپریم کورٹ میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ عدالتی احکامات کی پابندی کرتے ہوئے حکومت نے کمیٹی تشکیل دی ہے جو اسٹیک ہولڈرس سے بات چیت کرے گی۔ میناکشی نٹراجن اراضی تنازعہ کے بارے میں ہائی کمان کو رپورٹ پیش کریں گی۔ بتایا جاتا ہے کہ سیول سوسائٹیز اور بائیں بازو جماعتوں نے اِس معاملہ میں راہول گاندھی سے نمائندگی کرتے ہوئے مداخلت کی اپیل کی تھی۔ تلنگانہ حکومت کی جانب سے بھی اراضی کی حقیقت پر مبنی رپورٹ ہائی کمان کو روانہ کی جارہی ہے۔1