فروغ اردو میں معاون نہیں ، وزراء کی پیشی اور دفاتر میں ذاتی مصروفیات
حیدرآباد۔ 6۔اکٹوبر(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ نے ریاست میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیتے ہوئے ریاست میں اردو کے فروغ اور اردو والوں کے مسائل کے حل کے اقدامات کے طور پر ریاست کے بیشتر تمام وزراء کے علاوہ ضلع کلکٹریٹس میں اردو آفیسرس کے تقرر کے اقدامات کئے تھے لیکن یہ اردو آفیسرس کہاں خدمات انجام دے رہے ہیں اور کیا وہ اردو زبان میں موصول ہونے والی درخواستوں کے ترجمہ کر رہے ہیں! کیا اردو اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں سے اپنے محکمہ کے اعلیٰ عہدیداروں یا ریاستی وزراء کو واقف کروا رہے ہیں!اگر اردو آفیسرس کی خدمات کے متعلق امور کا جائزہ لیا جائے تو بیشتر اردو آفیسرس جن کے تقررات عمل میں لائے گئے ہیں وہ اردو آفیسرس کی ذمہ داریوں سے زیادہ وزراء کی پیشی میں دیگر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ریاستی حکومت نے اردو کے فروغ کے لئے ان عہدیداروں کے تقررات عمل میں لاتے ہوئے اردو کے فروغ کے لئے راہ ہموار کی تھی لیکن وزراء اور عہدیداروں کی عدم دلچسپی کے ساتھ ساتھ بیشتر اردو آفیسرس کی لاپرواہی کے سبب یہ آفیسرس اردو کے فروغ میں معاون ثابت نہیں ہورہے ہیں بلکہ ان کی نگرانی کرنے والا کوئی نہ ہونے کے سبب یہ آفیسرس اپنی من مانی کر رہے ہیں۔ ریاستی وزیر اقلیتی بہبود کے عہدیداروں سے وزیر اقلیتی بہبود اور محکمہ اقلیتی بہبود کے متعلق خبروں پر ردعمل حاصل کرنے کے سلسلہ میں رابطہ قائم کرنے پر اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ وزارت اقلیتی بہبود اور وزیر اقلیتی بہبود خود اس بات سے واقف نہیں ہیں کہ ان کے محکمہ کی کیا صورتحال ہے اور اردو ذرائع ابلاغ میں ان کے اور محکمہ کے متعلق کیا خبریں شائع ہورہی ہیں!یہی صورتحال چیف منسٹر کے دفتر میں خدمات انجام دینے والے عہدیدار کے متعلق بھی کہی جا رہی ہے اور بتایاجاتا ہے کہ وہ بھی وزیر اعلیٰ کے دفتر کو اس بات سے واقف کروانے کے موقف میں نہیں ہوتے کہ اردو داں طبقہ میں ان کے چیف منسٹر کے متعلق کیا چل رہا ہے ۔محکمہ تعلیم میں خدمات انجام دے رہے اردو آفیسر کے متعلق خود محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وہ دفتر میں کم اور عہدیداروں کے پاس زیادہ نظر آتے ہیں اور انہیں اپنی ذمہ داری سے زیادہ دیگر معاملات میں سرگرم دیکھا جا رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے جن اردو آفیسرس کے تقررات عمل میں لائے گئے ہیں ان میں بیشتر آفیسرس کی جانب سے اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہ کئے جانے کے سبب محکمہ جات میں اب بھی اردو کے چلن میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے اور نہ ہی ڈائریکٹوریٹ آف مائیناریٹی ویلفیر جو اردو آفیسرس کی تنخواہ کی اجرائی کا مجاز ہے وہ کبھی ان عہدیداروں کی خدمات کے متعلق رپورٹ طلب کرتا ہے جس کے سبب اردو کے نام پر تقرر حاصل کرنے والے ان اردو آفیسرس کی جانب سے اردو صحافت میں شائع ہونے والی خبروں سے اپنے اپنے محکمہ جات یا وزراء کو واقف نہیں کروایا جا رہاہے بلکہ اپنی ذاتی مصروفیات پر توجہ دی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ جو آفیسرس سنجیدگی کے ساتھ اپنے کام انجام دینا چاہتے ہیں انہیں وزراء کی پیشی میں کسی اور کام کی ذمہ داری تفویض کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے کاموں پر توجہ نہیں دے پا رہے ہیںجو کہ ریاست میں اردو زبان کی تباہی کا سبب بن رہا ہے۔م