ارٹیکل 370معاملے کی سات ججوں کی بنچ سپردگی متوقع

,

   

نئی دہلی۔ارٹیکل370کی برخواستگی کے متعلق دائر تمام درخواستوں کی جانچ کے لئے سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ معاملے کو پانچ ججوں کی بنچ سے سات ججوں کی بنچ کے حوالے کیاجاسکتا ہے۔

جموں کشمیر کو اس ارٹیکل نے خصوصی درجہ فراہم کیاتھا۔ عدالت کا یہ مشاہدہ اس وقت سامنے آیا جب وکلاء نے 1959اور1971کو اعلی عدالت میں پانچ ججوں کے دو متضاد فیصلوں کا حوالہ دیاتھا۔

پریم شنکر جھا کی نمائندگی کرنے والے وکیل دنیش دیوڈی نے عدالت عظمیٰ میں پانچ ججوں کی بنچ کے دومتضاد فیصلوں کا حوالہ دیا ہے ایک جو1959یں پریم ناتھ کول بمقابلہ جموں کشمیر کیس جبکہ دوسرا 1970میں سمپت پرکاش بمقابلہ جموں کشمیر معاملہ تھا۔

انہوں نے خواہش ظاہر کی معاملے کو سات رکنی بنچ کے حوالہ کیا جائے تاکہ اس پر کوئی مثبت فیصلہ لیاجاسکے۔

پانچ ججوں کی دستوری ننچ کی جانب سے کی جانے والی سنوائی کے پہلے روز انہوں نے اس مسلئے کو اٹھایا‘ س بنچ کی نگرانی جسٹس این وی رامنا کررہے ہیں اور ساتھ میں جسٹس سنجے کشن کول‘ آر سبھاش ریڈی‘ بی آر گاوائی او رسوریہ کانت بھی شامل ہیں

۔سینئر وکیل راجیو دھون نے کہاکہ عدالت کو 5اگست کے روز مرکزی فیصلہ کے ذریعہ ارٹیکل 370میں لائی گئی تبدیلی کو کئے گئے چیالنج کی سنوائی او رپھر جانچ سات ججو ں کی بنچ کے ذریعہ کرنی چاہئے۔

سینئر ایڈوکیٹ راجیو رام چندران سابق بیورکریٹ شاہ فیصل اور شہلہ رشید کے لئے پیش ہوئے تھے‘ اپنی بحث شروع کرتے ہوئے کہاکہ ریاست جموں او رکشمیرجمہوری مشق کے ذریعہ اپنے ائین کے مطابق اپنے متنازعات اختیارات کو استعمال کرنے کے طریقہ کار میں فیصلہ کرسکتی ہے۔سنوائی 21جنوری کے روز دوبارہ ہوگی