اسرائیل اور لبنان کی لڑائی لبنان کی ترقی کیلئے خطرہ

   

نیویارک: امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی کی جائزہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کی بڑھی ہوئی لڑائی لبنان میں ترقی و استحکام کے لیے خطرے کا باعث ہوگی۔ نیز جوزف عون کے صدر منتخب ہونے کے بعد پیدا ہوئی سیاسی پیش رفت بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔یہ رپورٹ امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی نے درپیش خطرات کے سالانہ جائزے کے سلسلے میں مرتب کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی جنگی کارروائیوں کے نتیجے میں لبنان فرقہ وارانہ کشیدگی بھڑک سکتی ہے۔ اس کی وجہ سے لبنان کی سیکیورٹی فورسز کمزور ہوں گی جبکہ انسانی صورت حال پہلے ہی بد ترین ہے۔اسرائیل کی مسلط کردہ حالیہ جنگ میں حزب اللہ کی بہت بڑھ جانے والی مشکلات کے باوجود حزب اللہ کی آج بھی امریکی اہلکاروں اور مفادات کو علاقائی و عالمی سطح پر نشانہ بنانے کی صلاحیت برقرار رکھی ہے۔لبنان میں اسرائیلی فوج کی سال بھر کی مہم نے حزب اللہ کی اعلیٰ ترین قیادت کو تباہ کر دیا اور گروپ کے جدید ترین ہتھیاروں کو شدید نقصان پہنچا کر اس کی جنگی استعداد کو بھی کمزور کردیا ہے۔ نیز شام میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے نے مشرق وسطیٰ میں پھیلے ہوئے ایک شیعہ بلاک بنانے کی ایرانی کوششوں کو روک دیا ہے۔ان بڑی ناکامیوں نے ایرانی قیادت کو بھی اپنے علاقائی نقطہ نظر پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ایران، جو حزب اللہ کا کلیدی حامی ہونے کے علاوہ فنڈز اور اسلحہ فراہم کرنے والا ملک ہے کے حوالے سے اس امریکی رپورٹ میں کہا گیا ہے تہران اپنا علاقائی اثر و رسوخ بڑھانے اور حکومتی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی میزائل بنانے کی صلاحیتوں اور نیوکلیئر پروگرام سے فائدہ اٹھانا جاری رکھے گا۔