اسرائیل کا ایران پرحملہ کا منصوبہ تیار کرنے کیلئے دباؤ

   

یروشلم : اسرائیل کے موقر اخبار’ٹائمز آف اسرائیل‘نے جمعرات کو کہا کہ اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز اور امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سیلون کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں بنیادی طور پر ایران کے جوہری پروگرام میں پیش رفت پر توجہ مرکوز کی گئی۔ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دوسری طرف ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ویانا میں ہونے والے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔اخبار نے ملاقات کے منٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقوں نے خطے میں تہران کی جانب سے عدم استحکام پیدا کرنے کی سرگرمیوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ میٹنگ میں گینٹز نے اسرائیل کے امریکہ کے ساتھ بہترین دفاعی تعاون کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کو مل کرکام کرنے اور مستقبل کے کسی بھی منظرنامے کے لیے خود کو تیار کرنے کی ضرورت ہے۔اسرائیلی میڈیا نے اطلاع دی تھی کہ امریکہ اوراسرائیل دونوں اس ماہ مشترکہ مشقیں شروع کریں گے۔ یہ مشقیں ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے جوہری تنصیبات پرحملوں کیتناظر میں کی جا رہی ہیں۔ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق رپورٹ کے مطابق امریکی فضائیہ ایک اضافی فورس کے طور پر کام کرے گی کیونکہ اس کے ایندھن بردار طیارے اسرائیل کے جنگی طیاروں کو ایرانی حدود میں داخل ہونے اور بار بار حملے کرنے کے دوران ایندھن فرہم کریں گے۔سنہ 2015 کے جوہری معاہدے میں واپسی کے سلسلے میں ویانا میں طویل عرصے سے تعطل کا شکار مذاکرات کے درمیان ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کی مشق میں اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بے مثال فضائی تعاون کو ایران کے لیے ایک ممکنہ پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ مشقیں ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب دوسری طرف ویانا میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکارہیں۔ایران اور عالمی طاقتیں 2015 کے جوہری معاہدے کی بحالی کی کوشش کر رہی ہیں۔
اخباری رپورٹ کے مطابق بڑی تعداد میں اسرائیلی جنگی طیارے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کی مشق میں حصہ لیں گے۔ رپورٹ میں اشارہ دیا گیا ہے کہ جب اسرائیل نے تقریباً 10 سال قبل اس طرح کے حملے کے لیے ایک بڑی ٹریننگ کی تھی تو امریکہ نے مشقوں میں حصہ نہیں لیا تھا۔