اسرائیل کا 425 کلومیٹر طویل دیوار تعمیر کرنے کا منصوبہ

   

تل ابیب : اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز کے دفتر کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق اسرائیل آنے والے مہینوں میں اردن کے ساتھ ساتھ مقبوضہ مغربی کنارے کے ساتھ اپنی سرحد پر ایک دیوار تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کا مقصد ’’اسلحے کی اسمگلنگ‘‘ کو روکنا ہے۔ اس منصوبے تکمیل پر چار سال کا عرصہ لگے گا۔اس سے غرب اردن کی اسرائیلی بستیوں کو تحفظ ملے گا۔پیر کے روز یسرائیل کاٹز نے وادی اردن کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے کہا کہ ہم نے اس علاقے پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کیلئے دیوار کے راستے میں بستیوں کے قیام کو آگے بڑھانے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے مغربی کنارے میں پناہ گزینوں کے کیمپوں میں مسلح گروہوں کو ختم کرنے اور دیوار کی تعمیر کے درمیان براہ راست تعلق نوٹ کیا ہے۔ اس دیوار کا مقصد ایران کی طر ف سے دہشت گردی کی کوششوں کو ناکام بنانا ہے۔کاٹز نے وادی اردن میں آبادکاری کونسلوں کے سربراہوں سے خطاب میں اس منصوبے کا مسودہ پیش کیا۔ معلوم ہوا ہے کہ اس مجوزہ منصوبے کی لاگت 5.2 ارب شیکل یا 1.5 بلین ڈالر ہوگی۔یہ دیوار 425 کلومیٹر تک پھیلی ہوگی۔ خیال رہے کہ اردن اور اسرائیل کے درمیان سرحد کی لمبائی 238 کلومیٹر ہے، جب کہ اسرائیل کے مغربی کنارے کی جھیل گلف 97 کلو میٹر تک پھیلی ہوئی ہے۔کاٹز نے دیوار کی تعمیر میں تیزی لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ ایرانی پاسداران انقلاب کے یونٹس لبنان میں حماس کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں تاکہ اردن اور وہاں سے مغربی کنارے میں اسلحہ اسمگل کیا جا سکے۔دوسری طرف اسرائیلی حکام اس حقیقت کو چھپانے میں کامیاب رہے ہیں کہ غزہ کے خلاف اسرائیل کی جارحیت، اس کی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور فلسطینی عوام کے حقوق کی خلاف ورزی خطے کی سلامتی اور استحکام کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ اس منصوبہ کی تجویز اسرائیل نے 20 سال قبل پیش کی تھی۔ اس وقت کے اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے 2018 میں اس کے بارے میں دوبارہ بات کی۔ انہوں نے کہا تھاکہ ہمارے پاس ایسی سرحدیں ہیں جن پر ابھی تک دیوار کے حوالے سے کوئی کارروائی نہیں ہوئی، جو کہ مشرقی سرحد ہے ہمیں اسے بھی بند کرنا پڑے گا۔