الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق لبنانی فوج مرحلہ وار سیکوریٹی بحال کرے گی
واشنگٹن ؍ بیروت ۔ 27 جون (ایجنسیز) واشنگٹن میں امریکہ کی ثالثی میں اسرائیل، لبنان اور امریکہ کے درمیان ایک فریم ورک معاہدہ پر دستخط ہوئے ہیں جسے خطہ میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ابتدائی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق معاہدہ کے تحت لبنانی فوج مرحلہ وار پورے ملک میں اپنی ساخت اور سیکوریٹی بحال کرے گی اور غیر ریاستی مسلح گروہوں خصوصاً حزب اللّٰہ کو غیر مسلح کیا جائے گا۔ اس عمل کی تصدیق کے بعد ہی اسرائیلی فوج مرحلہ وار لبنانی علاقوں سے انخلاء کرے گی۔ رپورٹ کے مطابق معاہدہ میں جنوبی لبنان کے 2 ابتدائی علاقوں کو پائلٹ زون قرار دیا گیا ہے جہاں لبنانی فوج مکمل سیکوریٹی سنبھالے گی، متاثرہ علاقوں کی تعمیرِ نو شروع ہو گی اور بے گھر شہریوں کی واپسی ممکن بنائی جائے گی۔ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے معاہدہ کو ’آغاز کا پہلا قدم‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاہدہ کا مقصد لبنان کی خود مختاری کی بحالی، حزب اللّٰہ کی عسکری صلاحیت کا خاتمہ اور اسرائیل کی سرحدی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ دوسری جانب لبنانی وزیرِ اعظم نواف سلام کا کہنا ہے کہ معاہدہ کا مقصد تمام لبنانی علاقوں سے اسرائیلی فوج کا انخلاء ہے تاہم موجودہ متن کے مطابق انخلاء کو حزب اللّٰہ کے غیر مسلح ہونے کی سے مشروط کیا گیا ہے۔ ادھر اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ جب تک حزب اللّٰہ غیر مسلح نہیں ہوتی اور اسرائیل کو خطرہ برقرار رہتا ہے، اسرائیلی فوج لبنان سے مکمل انخلاء نہیں کرے گی۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق حزب اللّٰہ نے معاہدہ میں شرکت نہیں کی۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ اسرائیل کو بغیر کسی شرط کے لبنان چھوڑنا چاہیے جبکہ اس نے اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلقات معمول پر لانے کو بھی مسترد کر دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ یہ معاہدہ کشیدگی میں کمی کی کوشش ہے تاہم اسرائیلی فوج کی کارروائیاں، جنوبی لبنان پر قبضہ اور حزب اللّٰہ کے سخت مؤقف کے باعث مستقل امن کا راستہ اب بھی غیر یقینی دکھائی دیتا ہے۔