اسمارٹ راشن کارڈس کا آغاز،کوئی شخص بھوکانہ رہے ، حکومت کا عزم

   

سنگاریڈی۔ 15۔ اگست ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) جدید ٹکنالوجی سے مزین اسمارٹ راشن کارڈ کی تقسیم کا افتتاحی پروگرام امبیڈکر اسٹیڈیم سنگاریڈی میں منعقد ہوا جس میں چیف منسٹر تلنگانہ اے ریونت ریڈی نے شرکت کی اور اسمارٹ راشن کارڈ کی تقسیم کا افتتاح کیا۔ تلنگانہ کے ایک کروڑ چھ لاکھ خاندانوں کو اسمارٹ راشن کارڈ جاری کئے جائیں گے۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے ریاستی وزراء کے ہمراہ آئی بی گیسٹ ہاوز چوراہا پہنچے جہاں پر جگاریڈی ورکنگ پریسیڈنٹ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اور نرملاجگا ریڈی صدر ضلع کانگریس کمیٹی نے ان کا خیر مقدم کیا۔ چیف منسٹر نے سابقہ وزراء اعظم پنڈت جواہر لال نہرو اور راجیو گاندھی کے مجسمہ کی نقاب کشائی کی اور اس کے بعد کھلی جیپ میں جلسہ گاہ پہنچے۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوے کہا کہ اسمارٹ راشن کارڈ محض ایک پلاسٹک کارڈ نہیں ہے بلکہ عوام کی عزت نفس کا عکس ہے۔ اسمارٹ راشن کارڈ ریاست میں کوئی شخص بھی بھوکا نہیں رہنا کانگریس حکومت کے عزم کا اعادہ ہے۔ بی آر ایس دس سال برسراقتدار رہی، بی جے پی 12 سال سے مرکز میں حکومت کر رہی ہے لیکن ان دونوں نے عوام کو باریک چاول نہیں دیا جبکہ کانگریس حکومت ریاست کی 17 ہزار راشن شاپس کے ذریعہ 3 کروڑ 48 لاکھ افراد کو فی کس چھ کیلو باریک چاول سربراہ کررہی ہے ، چیف منسٹر نے بی آر ایس سربراہ کے سی آر کو کسانوں کی فلاح و ترقی پر اسمبلی میں مباحثہ کا چیلنج کیا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ بے روزگار نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کیلئے کانگریس حکومت اقدامات کر رہی ہے۔ گانگریس حکومت میں اپنے پہلے سال ہی 70 ہزار 176 ملازمتیں دی گئیں اور مزید دس ہزار بھرتی کیلئے اعلامیہ جاری کیا گیا۔ عنقریب مزید نوکریوں کا نوٹیفیکشن جاری کیا جائیگا۔ بی آر ایس قائدین کی جذباتی تقاریر کا شکار نہ بنیں۔ تحریک تلنگانہ میں ان کی جھوٹی باتوں سے جذباتی ہوکر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا جس کا فائدہ بی آر ایس قائدین نے حاصل کیا۔ نوجوان اپنے مستقبل کو اچھا بنانے کیلئے جدو جہد کریں۔ بی آر ایس نے اپنے دور میں 8.12 لاکھ کروڑ روپیہ کا قرض کرتے ہوے تلنگانہ کو مالی بحران میں ڈھکیل دیا۔ خالی خزانہ کے ساتھ کانگریس کو اقتدار ملا۔ کانگریس حکومت سالانہ 75 ہزار کروڑ روپیہ صرف سود میں ادا کررہی ہے۔ تاحال تین لاکھ کروڑ روپیہ بطور سود ادا کیا گیا۔ مالی مشکلات کے باوجود کانگریس حکومت عوام کی فلاح و بہبود کیلئے مثالی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے عوام سے کانگریس کا ساتھ دیں اور 2034 تک ریاست میں کانگریس حکومت برقرار رہیگی۔انہوں نے کہا کہ سنگاریڈی کے سپوت جگاریڈی کو آئندہ اسمبلی انتخابات میں کہاں سے مقابلہ کرنا ہے یہ راہول گاندھی طئے کریں گے۔ سنگاریڈی عوام خوش قسمت ہیکہ انہیں جگا ریڈی جیسا ہمدرد قائد ملا۔ جگا ریڈی جیسا قائد عملی سیاست میں فعال کردار ادا کرنا ضروری ہے۔ جگاریڈی کو کامیاب بنانے عوام سے اپیل کی۔ اتم کمار ریڈی وزیر سیول سپلائس و آبپاشی نے مخاطب کرتے ہوے کہا کہ بی آر ایس نے اپنے دس سالہ دور حکومت میں ایک بھی نیا راشن کارڈ جاری نہیں کیا جبکہ کانگریس حکومت نے ڈھائی سال میں ہی 17 لاکھ نئے راشن کارڈ جاری کیے ہیں۔ بی آر ایس دور حکومت میں تلنگانہ میں 89 لاکھ خاندانوں کے پاس راشن کارڈ تھے جبکہ آج ریاست میں 1.06 کروڑ خاندانوں کے پاس راشن کارڈ ہیں جس سے 3 کروڑ 42 لاکھ افراد مستفید ہورہے ہیں۔ جی ویویک وینکٹ سوامی وزیر لیبر و انچارج منسٹر ضلع سنگاریڈی نے کہا کہ کانگریس حکومت نے اپنے دو لاکھ نوکریوں کے وعدے کے مطابق تاحال ایک لاکھ ملازمتیں فراہم کی گئیں اور عنقریب مزید ایک لاکھ نوکریاں فراہم کی جائیںگی۔ جدید دور کے تقاضہ کے مطابق نوجوانوں کو تربیت دینے ریاست میں 120 اسکل ڈیولپمنٹ سنٹرس قائم کیے گیے۔ مہیش کمار گوڑ صدر پردیش کانگریس کمیٹی نے کہا کہ کانگریس نے اپنے وعدے کے مطابق چھ گیارنٹیوں پر عمل درآمد کیا ہے۔ 200 یونٹ مفت برقی، کسانوں کی فلاح و ترقی کے لیے اسکیمات، اندراماں مکانات و دیگر فلاحہ و ترقیاتی اسکیمات کو کانگریس حکومت نے شروع کیا ہے۔ دامودھر راج نرسمھا وزیر صحت نے کہا کہ 1980 میں اندرا گاندھی نے حلقہ پارلیمنٹ میدک سے مقابلہ کیا اور کامیاب ہوکر وزیراعظم ہند کے عہدہ پر فائض ہوئیں۔ اندرا گاندھی نے ضلع میدک کی ترقی کیلئے بی ایچ ای ایل، بی ڈی ایل اور او ڈی ایف جیسی فیاکٹریوں کا قیام عمل میں لایا۔ تلنگانہ کانگریس حکومت اندرا گاندھی کی فکر و فلسفہ کو آگے بڑھا رہی ہے۔ انہوں نے چیف منسٹر سے خواہش کی کہ سنگور پراجکٹ کو سیاحتی مرکز کے طور پر ترقی دینے کا اعلان کریں۔ نرملا جگا ریڈی صدر ضلع کانگریس کمیٹی سنگاریڈی ضلع نے چیف منسٹر اور وزراء کو تہنیت پیش کی۔ جلسہ میں پرتیک جین کلکٹر ضلع سنگاریڈی، سریش شیٹکر ایم پی ظہیرآباد، ڈاکٹر سنجیو ریڈی رکن اسمبلی نارائن کھیڑ، نوین کمار یادو رکن اسمبلی جوبلی ہلز، ایم اے فہیم، گریدھر ریڈی، ڈاکٹر چندر شیکھر، توپاجی اننت کشن، کونا سنتوش، حافظ شیخ شفیع وائس چیرمین بلدیہ سنگاریڈی، انجانائلو، اجول ریڈی، محمد نواز کونسلر، محمد صلاح الدین ببو کوآپشن ممبر بلدیہ اور دیگر قائدین موجود تھے۔