اسمارٹ فونس کے حد سے زیادہ استعمال سے ازدواجی زندگیوں پر منفی اثرات

   


تازہ تحقیق میں 88 فیصد جوڑوں کے دلچسپ و چونکا دینے والے انکشافات
اسمارٹ فون
بنانے والی کمپنی vivo کی حالیہ تحقیق ’ سوچ آف ‘ سے پتہ چلا کہ اسمارٹ فونس انسانی زندگیوں بالخصوص شادی شدہ جوڑوں کے درمیان تعلقات کو نقصان پہونچا رہے ہیں ۔

حیدرآباد ۔ 13 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : اسمارٹ فونس اب ہماری روزمرہ کی زندگی کا لازمی حصہ بن چکے ہیں ۔ زیادہ تر لوگوں کا اسمارٹ فونس کے بغیر گذارا مشکل ہوگیا ہے ۔ عوام کی اکثریت اسمارٹ فون کی غلام بن چکی ہے ۔ اسمارٹ فونس کے حد سے زیادہ استعمال سے انسانی رشتے بالخصوص ازدواجی زندگی پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں ۔ اسمارٹ فون بنانے والی کمپنی vivo کی حالیہ تحقیق ’ سوچ آف ‘ سے پتہ چلا کہ اسمارٹ فونس انسانی زندگیوں بالخصوص شادی شدہ جوڑوں کے درمیان تعلقات کو نقصان پہونچا رہے ہیں ۔ سائبر میڈیا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے تعاون و اشتراک سے ’ انسانی تعلقات اور اسمارٹ فونس کے اثرات 2022 ‘ کے عنوان سے سروے کیا گیا جس میں ملک کے مختلف اہم شہروں دہلی ، ممبئی ، کولکتہ ، چینائی ، حیدرآباد ، بنگلور ، احمد آباد اور پونے میں 1000 ایسے افراد سے بات چیت کی گئی ہے جو اسمارٹ فونس استعمال کرتے ہیں ۔ اس تحقیق میں کئی دلچسپ اور چونکانے والے انکشافات منظر عام پر آئے ہیں ۔ اس تحقیق میں 67 فیصد لوگوں نے اعتراف کیا کہ وہ اپنے لائف پارٹنرس کے ساتھ وقت گذارتے ہوئے بھی اسمارٹ فونس میں ڈوبے ہوتے ہیں ۔ 89 فیصد نے اعتراف کیا کہ وہ اپنے شوہر یا بیوی سے بات کرنے میں کم وقت گذارتے ہیں ۔ 84 فیصد لوگوں نے کہا کہ وہ اپنے لائف پارٹنرس کے ساتھ زیادہ وقت گذارنا چاہتے ہیں ۔ 88 فیصد لوگوں نے اعتراف کیا کہ اسمارٹ فونس کے زیادہ استعمال سے ان کی ازدواجی زندگی پر اثر پڑا ہے ۔ اس تحقیق میں حصہ لینے والے شوہروں اور بیویوں نے اعتراف کیا کہ وہ روزانہ 4 تا 7 گھنٹے اسمارٹ فونس کے ساتھ گذارتے ہیں ۔ اتنی دیر تک اپنے لائف پارٹنرس سے گفتگو نہیں کرتے ۔ تحقیق میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ 73 فیصد شوہروں اور بیویوں نے اپنے لائف پارٹنرس پر ان سے زیادہ اسمارٹ فونس کو وقت دینے کا الزام عائد کیا ۔ 70 فیصد لوگوں نے اعتراف کیا کہ اسمارٹ فونس کے استعمال کے دوران اگر ان کا لائف پارٹنر کچھ پوچھتا ہے تو انہیں غصہ آتا اور وہ جھنجھلاہٹ محسوس کرتے ہیں ۔۔ ن