اسمبلی اجلاس کیلئے تمام تر احتیاطی اقدامات، ایام کار کے بارے میں بی اے سی میں فیصلہ
حیدرآباد۔تلنگانہ اسمبلی اور کونسل کے مانسون سیشن کا 7 ستمبر سے آغاز ہوگا لیکن حکومت کورونا کی موجودہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے ہر ممکن احتیاطی تدابیر پر غور کررہی ہے۔ دونوں ایوانوں میں سماجی فاصلہ کے ساتھ نشستوں کی برقراری کو یقینی بنایا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ دونوں ایوانوں کے ارکان اور اسٹاف کے کورونا ٹسٹ پر غور ہورہاہے تاہم اس سلسلہ میں قطعی فیصلہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کریں گے۔ دونوں ایوانوں کے عہدیداروں اور وزیر مقننہ سے مشاورت کے بعد اس سلسلہ میں فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسپیکر اسمبلی اور صدرنشین قانون ساز کونسل سے رائے حاصل کی گئی ہے۔ ارکان کے کورونا ٹسٹ کے ذریعہ نہ صرف وائرس سے متاثرہ افراد کا پتہ چلایا جاسکے گا بلکہ دیگر ارکان کو وائرس سے بچانے میں مدد ملے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ حالیہ عرصہ میں دو وزراء اور 6 سے زائد ارکان اسمبلی کے کورونا سے متاثر ہونے کے بعد حکومت غیر معمولی احتیاطی اقدامات کا منصوبہ رکھتی ہے۔ حال ہی میں ریاستی وزراء محمد محمود علی اور جی ملا ریڈی کے علاوہ ارکان مقننہ جی سنیتا،
ایم یادگیری ریڈی، باجی ریڈی گوردھن، گنیش گپتا اور کونسل کے بعض ارکان کورونا سے متاثر ہوئے تھے۔ دوباک کے رکن اسمبلی رام لنگا ریڈی کی کورونا سے موت واقع ہوئی۔ ذرائع نے بتایا کہ ارکان اسمبلی اور کونسل سے خواہش کی جائے گی کہ وہ اپنے آبائی مواضعات میں اپنا ٹسٹ کروائیں یا پھر اسمبلی کے احاطہ میں ٹسٹ کیلئے تیار رہیں۔ کونسل کے صدرنشین اور اسمبلی کے اسپیکر کورونا گائیڈ لائنس اور ٹسٹنگ پر عمل آوری کے حق میں ہیں۔ محکمہ صحت کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے ڈاکٹرس اور طبی عملے کو متعین کرنے کی خواہش کی گئی تاکہ اسمبلی اجلاس کے دوران تھرمل اسکریننگ کی جاسکے اور ضرورت پڑنے پر ابتدائی طبی امداد فراہم کرسکیں۔ صدرنشین قانون ساز کونسل جی سکھیندر ریڈی نے کہا کہ اسمبلی اجلاس کے اوقات اور ایام کار کے بارے میں بزنس اڈوائزری کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں 290 جبکہ کونسل میں 90 نشستیں ہیں۔ دونوں ایوانوں میں ارکان کی موجودہ تعداد علی الترتیب 120 اور 40 ہے ایسے میں سماجی فاصلہ کے ساتھ نشستوں کی فراہمی میں مدد ملے گی۔ پریس گیلری میں بھی سماجی فاصلہ کے ساتھ نشستوں کا انتظام کیا جائے گا۔