اسمبلی میں گورنر کا خطبہ پُرامن طور پر گذر جانے کی امید

   

14 فروری تک بجٹ اجلاس کا امکان، صدرنشین کونسل کی میڈیا سے بات چیت
حیدرآباد۔/31 جنوری، ( سیاست نیوز) صدرنشین تلنگانہ قانون ساز کونسل جی سکھیندر ریڈی نے کہا کہ آنے والے دنوں میں ٹاملناڈو کی طرح تلنگانہ میں گورنر کے خطبہ کے امکانات نہیں ہیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے سکھیندر ریڈی نے کہا کہ وہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ گورنر اور حکومت کے درمیان اختلافات ختم ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ 14 فروری تک بجٹ اجلاس جاری رہے گا۔گورنر کے خطبہ پر جاری تنازعہ کا حوالہ دیتے ہوئے سکھیندر ریڈی نے کہا کہ ٹاملناڈو کی طرح تلنگانہ میں بھی گورنر کا خطبہ شاید نہیں ہوگا۔ گورنرس دراصل مرکزی حکومت کے اشارہ پر کام کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کیلئے مکمل قرض کی معافی اور اراضی رکھنے والے غریبوں کو مکان کی تعمیر کیلئے 3 لاکھ روپئے کی فراہمی جیسی اسکیمات پر عمل آوری ہونی چاہیئے۔ سکھیندر ریڈی نے کہا کہ ان کے فرزند آئندہ انتخابات میں مقابلہ کے خواہاں ہیں لیکن قطعی فیصلہ پارٹی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس کو قومی سطح پر عوامی تائید حاصل ہورہی ہے۔ بعض ریاستوں میں سیاسی خلاء پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نلگنڈہ میں پھر ایک مرتبہ بی آر ایس کو زائد نشستوں پر کامیابی حاصل ہوگی۔ بائیں بازو کی جماعتیں بی آر ایس سے مفاہمت کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ گریدھرگمانگ ایک سینئر قائد ہیں اوران کی بی آر ایس میں شمولیت سے اڈیشہ میں اہم تبدیلیاں واقع ہوں گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ گورنر کا خطبہ پُرامن طور پر گذر جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ گورنر اور حکومت کے درمیان اختلافات کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن اسے حکومت اور اسمبلی سے مربوط نہیں کیا جانا چاہیئے۔ ایسے معاملات میں کسی کی کامیابی نہیں کہی جاسکتی۔ انہوں نے وزیر برقی جگدیش ریڈی سے اختلافات کی تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال تقریباً 60 دن اسمبلی اور کونسل کی کارروائی کے بارے میں مباحث جاری ہیں۔ کونسل میں اپوزیشن ارکان کو اظہار خیال کا مناسب وقت دیا جائے گا۔ر