گرفتاری اور پولیس گاڑی میں قیامگاہ منتقل، چیف منسٹر پر انتقامی کارروائی کا الزام
حیدرآباد۔/13 ستمبر، ( سیاست نیوز) بی جے پی کے رکن اسمبلی ایٹالہ راجندر کی اسمبلی سے معطلی کے بعد ایوان کے باہر ڈرامائی مناظر دیکھے گئے اور راجندر کی پولیس عہدیداروں سے بحث و تکرار ہوئی۔ ایٹالہ راجندر ایوان میں معطلی کے بعد جیسے ہی باہر آئے انہوں نے وہاں موجود میڈیا کے نمائندوں سے ملاقات کی اور بات چیت جاری تھی کہ اچانک اسمبلی کے چیف مارشل اور دیگر پولیس عہدیدار وہاں پہنچے اور کہا کہ معطل رکن کو ایوان کے احاطہ سے فوری نکل جانا چاہیئے۔ راجندر نے کہا کہ وہ اپنی گاڑی کا انتظار کررہے ہیں جس پر پولیس عہدیداروں نے کہا کہ انہیں پولیس کی گاڑی کے ذریعہ باہر منتقل کیا جائے گا۔ اس موقع پر راجندر اور پولیس عہدیداروں کے درمیان بحث و تکرار ہوئی اور ایٹالہ نے اسمبلی احاطہ میں گرفتاری کے جواز پر سوال اٹھائے۔ پولیس نے راجندر کو گرفتار کرلیا اور جبرا اپنی گاڑی میں بٹھا دیا جس پر راجندر نے سخت احتجاج کیا اور کہا کہ ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیا جارہا ہے۔ راجندر نے بتایا کہ وہ بی جے پی کے ہیڈکوارٹر نامپلی جانا چاہتے ہیں لیکن پولیس نے انہیں ان کی قیامگاہ منتقل کردیا۔ راجندر کی پولیس کی گاڑی میں منتقلی کے بعد اسمبلی کے باہر بی جے پی کے امکانی احتجاج کے تحت چوکسی اختیار کرلی گئی۔ بعد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ایٹالہ راجندر نے پولیس کے رویہ پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ کے سی آر کو اقتدار سے بیدخل کرنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ ایک سال سے ان کے خلاف سازش کی جارہی ہے۔ ضمنی چناؤ میں کامیابی کے بعد سے حکومت انہیں کمزور کرنا چاہتی ہے۔ میری آواز کو دبانے کی کوشش کی گئی اور غیر منصفانہ طریقہ سے معطل کیا گیا۔ راجندر نے کہا کہ وہ کے سی آر کے انتقامی رویہ سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔ ر