بی جے پی کا قوم کو مقدم رکھنے کا ڈھونگ ، اکھلیش یادوکا دعویٰ

,

   

لکھنؤ۔ یکم ؍ جولائی (ایجنسیز) سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے اپنی 53ویں سالگرہ کے موقع پر چہارشنبہ کے روز ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر سے جڑے تنازعہ، پیپر لیک، تعلیمی نظام اور سرکاری اداروں کے غلط استعمال کو لے کر مرکز اور ریاست اترپردیش کی بی جے پی حکومت کو ہدف تنقید بنایا۔ انہوں نے بی جے پی پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ حکمراں جماعت کیلئے ’نیشن فرسٹ‘ نہیں بلکہ ’ڈونیشن فرسٹ‘ ہے۔پریس کانفرنس کے دوران اکھلیش یادو نے پارٹی کو معاشی طور پر مضبوط بنانے کیلئے ’پی ڈی اے سوابھیمان سہیوگ‘ مہم شروع کرنے کا اعلان بھی کیا۔ پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں اکھلیش یادو نے کہا کہ پارٹی جلد ہی کیو آر کوڈ کے ذریعے ’پی ڈی اے سوابھیمان سہیوگ‘ مہم شروع کرے گی۔ اس کے تحت حامیوں سے کم از کم 20 روپے کا تعاون لیا جائے گا، جس سے تنظیم کو مزید مضبوط بنایا جا سکے گا۔اکھلیش یادو نے کہا کہ بی جے پی کی نظر نیشن پر نہیں بلکہ ڈونیشن پر ہے۔ ان کیلئے ’قوم مقدم ‘ نہیں، فنڈز کی جمع بندی مقدم ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے الزام عائد کیا کہ لوگوںکی ’عقیدت‘ کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا ہے اور ایودھیا میں رام مندر سے جڑے معاملات نے پورے ملک میں سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ چندہ اور دیگر تنازعات کے درمیان پیپر لیک جیسے اہم معاملات کو دبایا جا رہا ہے۔رام مندر اور آئین کا ذکر کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا کہ مریادا پروشوتم بھگوان شری رام ہندوستانی ثقافت اور سناتن روایات کے آئیڈیل ہیں، جبکہ آئین جمہوریت کے وقار کی علامت ہے۔ بی جے پی نے مذہب، آئین، عقیدت اور جذبات سب کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھگوان شری رام تمام سناتنیوں کے ’آرادھیا‘ ہیں اور رہیں گے، لیکن بی جے پی ان کے نام پر سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لوگ ان مسائل کو سمجھ رہے ہیں اور وقت آنے پر اس کا جواب دیں گے۔اکھلیش یادو کے مطابق حکومت اہم مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اگر کوئی حکومت سے سوال کرتا ہے تو اس کے خلاف سرکاری ایجنسیوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ پیپر لیک کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سے غریب اور متوسط طبقے کے خاندانوں کے بچوں کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے۔

اکھلیش یادو کی سالگرہ تقریب میں افراتفری
مرادآباد، یکم جولائی (یو این آئی) سماجوادی پارٹی (ایس پی) کے صدر اکھلیش یادو کی 53 ویں سالگرہ کے موقع پر مرادآباد میں واقع پارٹی دفتر میں منعقدہ تقریب کے دوران اس وقت افراتفری کا ماحول بن گیا، جب 53 فٹ لمبا کیک کاٹے جانے کے بعد کارکنوں میں اسے حاصل کرنے کی رسہ کشی شروع ہوگئی۔ تقریب کے دوران پارٹی کی اندرونی سیاست، سینئر لیڈر کمال اختر کے استعفے اور مقامی اراکینِ اسمبلی کی عدم موجودگی بھی موضوع بحث بنی رہی۔ایس پی دفتر میں منعقدہ پروگرام میں البینا بیکری کے تیار کردہ 53 فٹ لمبے کیک کو رکنِ پارلیمنٹ روچی ویرا اور دیگر لیڈروں کی موجودگی میں کاٹا گیا۔ کیک کٹتے ہی کارکنوں میں اسے لینے کی بازی شروع ہوگئی۔

سرکاری اسکولوں کا تعلیمی نظام کمزور ہونے کی وجہ سے طلبہ کوچنگ اداروں پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ حکومت ان اداروں پر بھی دباؤ ڈالنے کا کام کر رہی ہے۔سماجوادی پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ بی جے پی کی ’ڈکشنری میں نہ مذہب ہے اور نہ شرم۔‘ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سنتوں کی توہین کی جا رہی ہے، پرائمری اسکول بند ہو رہے ہیں اور وزیر اعلیٰ کے آبائی ضلع تک میں پرائمری ہیلتھ سنٹر (پی ایچ سی) اور کمیونٹی ہیلتھ سنٹر (سی ایچ سی) متاثر ہو رہے ہیں۔