اگر کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے تو معذرت خواہ ہوں، بی آر ایس پارٹی بوکھلاہٹ کا شکار
حیدرآباد ۔ 3 اگست (سیاست نیوز) اسمبلی میں کئے گئے ریمارکس پر پیدا شدہ تنازعہ کی وضاحت کرتے ہوئے رکن اسمبلی ڈی ناگیندر نے کہا کہ بی آر ایس کے ارکان اسمبلی نے انہیں ٹارگیٹ کیا اور ان کے خلاف توہین آمیز ریمارکس کیا جس پر انہوں نے اپنا صبر کھودیا۔ ہفتہ کو حیدرآباد کے آدرش نگر ایم ایل اے کوارٹرس میں سی ایم آر ایف کے چیکس تقسیم کیا۔ بعدازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ڈی ناگیندر نے کہا کہ اسمبلی میں انہیں حیدرآباد کی ترقی پر بات کرنے کا موقع ملا تب بی آر ایس کے ارکان اسمبلی ایک منظم سازش کے تحت ان کی تقریر کے دوران مداخلت کررہے تھے۔ انہوں نے میرے اور چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کے خلاف غیر پارلیمانی ریمارکس کئے۔ ان کے مائیک بند تھے جس کی وجہ سے وہ ریمارکس ریکارڈ نہیں ہوئے تاہم ایوان میں اس کی گونج سنائی دی جس کی وجہ سے غیریقینی صورتحال پیدا ہوگئی۔ اسپیکر اسمبلی نے حیدرآباد کی ترقی پر مختصر مباحث کا آغاز کرتے ہوئے اس بات پر کا ڈی ناگیندر کو موقع فراہم کیا تھا۔ جیسے ہی ڈی ناگیندر نے بات کرنے کا آغاز کیا، بی آر ایس کے ارکان اسمبلی ان کے خلاف کھڑے ہوگئے۔ تم کونسی پارٹی کی طرف سے بات کررہے ہو استفسار کیا۔ ان ریمارکس پر توجہ دیئے بغیر ناگیندر نے اپنی تقریر جاری رکھی۔ بی آر ایس کے ارکان اسمبلی پی کوشک ریڈی اور ویویکانند کے علاوہ دوسروں نے ان کی تقریر کے دوران بار بار مداخلت کرتے ہوئے وہی سوال کیا جس پر ان کے صبر کی جو حد تھی وہ ختم ہوگئی اور وہ بے قابو ہوکر صبر کھودیا۔ مجھے ’’اے‘‘ کہہ کر مخاطب کررہے تھے جس پر انہوں نے برہمی کا اظہار کیا۔ ناگیندر تم کس پارٹی کی طرف سے بات کررہے ہو سوال کیا گیا جس پر وہ شدید برہم ہوگئے تھے۔ میں نے جس زبان کا استعمال کیا ہے وہ حیدرآبادی لب و لہجہ ہے۔ اگر اس سے کسی کے جذبات مجروح ہوئے ہیں تو وہ معذرت خواہی کرتے ہیں۔ اقتدار سے محروم ہونے والے بی آر ایس کے ارکان اسمبلی اشتعال انگیزی پر اتر آئے ہیں۔ اسمبلی کا اجلاس شروع ہونے کی ابتداء سے وہ ایوان کو باقاعدہ چلانے میں تعاون کررہے تھے۔ میرے جیسے ارکان کو بات کرنے کا بھی موقع نہیں ملا۔2