افغانستان میں اب پوری نسل کا مستقبل خطرہ میں: اقوام متحدہ

   

نیویارک: اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میںاب پوری نسل کا مستقبل خطرے میں ہے۔ تین سال قبل طالبان کی حکومت آنے کے بعد عائد کی جانے والی پابندیوں کے باعث مزید 14 لاکھ لڑکیاں تعلیم سے محروم ہو گئی ہیں۔ اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارے (یونیسکو) نے جمعرات کو بتایا کہ افغانستان میں طالبان حکمرانوں کے اقدامات نے گزشتہ دو دہائیوں میں تعلیم کے شعبے میں ہونے والی تیزرفتار پیش رفت کو ضائع کر دیا ہے جس سے ایک پوری نسل کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔اس وقت افغانستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں 12 سال سے زیادہ عمر کی لڑکیوں کیلئے ثانوی اور خواتین کیلئے اعلیٰ درجے کی تعلیم کا حصول ممنوع ہے۔ تین سال قبل طالبان کی حکومت آنے کے بعد عائد کی جانے والی پابندیوں کے باعث کم از کم 14 لاکھ لڑکیاں تعلیم سے محروم ہو گئی ہیں۔طالبان کی حکومت قائم ہونے سے پہلے ہی تعلیم سے محروم لڑکیوں سمیت اس وقت ملک میں تقریباً 25 لاکھ لڑکیاں گھروں میں بیٹھی ہیں۔ یہ اسکول جانے کی عمر میں لڑکیوں کی 80 فیصد تعداد ہے۔یونیسکو نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اسکول جانے والے بچوں کی تعداد میں بڑھتی ہوئی کمی کا نتیجہ بچہ مزدوری اور نوعمری کی شادیوں میں اضافے کی صورت میں نکلے گا۔یونیسکو نے بتایا ہے کہ 2021 کے بعد یونیورسٹیوں میں زیرتعلیم طلبہ کی تعداد بھی کم ہو کر نصف رہ گئی ہے۔ نتیجتاً ملک کو ایسی نوکریوں کیلئے تربیت یافتہ نوجوانوں کی کمی کا سامنا ہو گا جن میں اعلیٰ درجے کی صلاحیتیں درکار ہوتی ہیں۔
اس کا نتیجہ ملک کیلئے ترقیاتی مسائل کی صورت میں برآمد ہو گا۔