افغان طالبان سے روابط نہ رکھنا مسئلہ کا حل نہیں : بلاول بھٹو

   

سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈاؤس میں عرب ٹی وی کو پاکستانی وزیر خارجہ کا انٹرویو

ڈاؤس : پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نیکہا ہیکہ افغانستان میں طالبان سے روابط نہ رکھنا مسئلہ کا حل نہیں، طالبان سے روابط جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے سالانہ اجلاس کے موقع پرعرب ٹی وی کو انٹرویو میں بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ افغانستان میں پاکستانی سفارت خانے پر حملے کی تحقیقات افغان حکومت کر رہی ہے، پْر امن افغانستان کے لیے عالمی برادری کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ہم نے افغان عبوری حکومت سے کہا ہیکہ وہ عالمی وعدے پورے کرے، پاکستان اور افغانستان دونوں کو دہشت گردی کا سامنا ہے، پاکستان نے افغان عبوری حکومت پر لڑکیوں کی تعلیم سے متعلق زور دیا ہے، پاکستان میں مکمل اتفاق ہیکہ جودہشت گردی میں ملوث ہے اس سے بات نہیں ہوگی۔خیال رہے کہ ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کا 16 سے 20 جنوری تک ہونیوالا پانچ روزہ اجلاس جاری ہے، اجلاس میں 130ممالک سے 52 سربراہان مملکت اور حکومتی عہدیداران سمیت 27سو مندوبین شریک ہیں، اس سال عالمی اقتصادی فورم اجلاس کا ایجنڈا بکھری ہوئی دنیا میں تعاون ہے۔وزیرخارجہ بلاول بھٹو اور وزیرمملکت حناربانی کھر اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے قطرکے وزیر خارجہ شیخ محمدبن عبدالرحمان الثانی کا کہنا تھا کہ طالبان انتظامیہ کے حالیہ اقدامات انتہائی مایوس کْن رہے ہیں، طالبان کے مایوس کْن اقدامات کے باوجود طالبان سے روابط رکھنے کی ضرورت ہے، طالبان سے روابط جاری رکھنے سے ہی مطلوبہ مقاصدکا حصول ممکن ہے۔ قطری وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ طالبان سے بات چیت کے لیے دیگر مسلم ممالک سے بھی مشاورت کی جا رہی ہے، یہ آسان کام نہیں لیکن کوشش جاری رکھنا ضروری ہے۔