اسکیمات پر عمل آوری نہیں، بجٹ کی عدم اجرائی، جنوری سے کمپیوٹر ٹریننگ کی تجویز
حیدرآباد۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن سے گذشتہ تین برسوں سے کئی اہم اسکیمات پر عمل آوری ٹھپ ہے۔ حکومت سے اسکیمات کیلئے فنڈز کی عدم اجرائی سے سبسیڈی اسکیم کے علاوہ ٹریننگ ایمپلائمنٹ اور کمپیوٹر ٹریننگ سنٹرس کی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔ فینانس کارپوریشن کے صدرنشین اور منیجنگ ڈائرکٹر کا عہدہ خالی ہے جس سے اسکیمات پر عمل تحت کے عہدیداروں کیلئے دشوار ہے۔ کارپوریشن کے تحت 43 کمپیوٹر سنٹرس ہیں جو سابق میں اردو اکیڈیمی کے تحت تھے۔ کارپوریشن کے عہدیداروں نے آئندہ مالیاتی سال کمپیوٹر سنٹرس کے ذریعہ ٹریننگ کورسیس کے آغاز کا فیصلہ کیا ہے۔ لاک ڈاؤن اور حکومت کی جانب سے بجٹ کی عدم اجرائی کمپیوٹر کورسیس کے آغاز میں اہم رکاوٹ بنی ہوئی تھی۔ کارپوریشن ذرائع نے بتایا کہ کمپیوٹر سنٹرس دو دہے قبل قائم کئے گئے تھے اور 2016 تک وہ اردو اکیڈیمی کے تحت رہے بعد میں انہیں اقلیتی فینانس کارپوریشن کے حوالے کیا گیا۔ انٹر میڈیٹ اور گریجویشن کورسیس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو کمپیوٹر کورسیس کی تکمیل سے روزگار کے حصول میں آسانی پیدا ہوسکتی ہے لہذا کارپوریشن نے جنوری یا فروری سے کمپیوٹر کلاسیس کے آغاز کا فیصلہ کیا ہے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ کمپیوٹر کلاسیس کے سلسلہ میں طلبہ میں کافی دلچسپی پائی جاتی ہے۔ کمپیوٹر کلاسیس کے انعقاد میں ایک اور اہم رکاوٹ قابل اسٹاف کی کمی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کمپیوٹر مراکز سے تعلق رکھنے والے فیکلٹیز میں عصری کورسیس کی تربیت کی اہلیت موجود نہیں ہے جو کہ طلبہ کو روزگار کے حصول میں مددگار ثابت ہوسکتی ہو۔ بینک سے مربوط سبسیڈی اسکیم پر عمل آوری کی منسوخی کے نتیجہ میں دیڑھ لاکھ سے زائد درخواست گذاروں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ حکومت نے بینک سے تعلق کے بغیر کارپوریشن سے راست قرض جاری کرنے کا اعلان کیا تھا تاکہ غریب و مستحق اقلیتی خاندان چھوٹے کاروبار کا آغاز کرکے خود مکتفی بن سکیں۔ نئی درخواستوں کے حصول کے باوجود قرض جاری نہیں ہوا ۔ ٹریننگ و ایمپلائمنٹ اسکیم عملاً ٹھپ ہوچکی ہے جس کے تحت مختلف پیشہ ورانہ کورسیس کی تربیت دی جاتی رہی۔ کارپوریشن سے کار اور آٹو سربراہ کرنے کی اسکیم شروع کی گئی جس پر ایک مرتبہ عمل آوری کے بعد روک دیا گیا۔