اقوام متحدہ کی شام کیلئے فوری امداد کی اپیل

   

نیویارک: اقوام متحدہ کے تارکین اور مہاجرت سے متعلقہ دفتر نے شام کے بے گھر افراد کیلئے پہلے سے کی گئی اپنی اپیل کو وسعت دیتے ہوئے کہا ہے کہ 73 ملین ڈالر کی رقم کی فوری ضرورت ہے۔ تاکہ ملک کو سالہا سال کی خانہ جنگی کے دوران ہونے والی تباہی سے نکالا جا سکے۔اقوام متحدہ کی اس تنظیم نے پچھلے سال شام کیلئے بین الاقوامی برادری سے 30 ملین ڈالر کی فوری امداد کی اپیل کی تھی۔ اس اپیل کردہ رقم میں بیرون ملک موجود شامیوں کیلئے اگلے چھ ماہ تک وسائل فراہمی بھی شامل تھی۔اس ادارے کے سربراہ ایمی پو نے کہا ‘اقوام متحدہ اس تاریخی موقع پر 14 سال سے خانہ جنگی میں گھرے شامی مہاجرین کی مدد کیلئے کمٹڈ ہے۔ شام کے بہتر مستقبل کیلئے تمام شراکت داروں کے ساتھ مل کر امدادی کام کریں گے۔’انہوں نے مزید کہا ‘آئی او ایم’ انسانی بنیادوں پر امدادی کارروائیوں کے ذریعے کمزور کمیونیٹیز کی مدد کا وسیع تجربہ رکھتی ہے۔جنیوا میں قائم ادارے کے مطابق ‘2020 میں دمشق سے نکلنے کے بعد شام میں موجودگی کیلئے کام کیا جا رہا ہے۔ نیز دو دہائیوں پر پھیلے تجربے کی بنیاد پر سرحد پار امدادی سرگرمیوں پر بھی کام کیا جا رہا ہے۔’تارکین اور مہاجرت سے متعلقہ ادارے نے کہا ہمارا مقصد شام کی کمزور کمیونٹی کو امداد کی فوری فراہمی یقینی بنانا ہے۔ 73 ملین ڈالر کی اپیل کردہ امدادی رقم پناہ گاہوں کے قیام، پانی، صفائی اور صحت کیلئے خرچ کی جائے گی۔ نقل مکانی کرنے والے شامیوں کی بحالی میں مدد فراہم کرنے کیلئے بھی اس رقم کا استعمال کیا جائے گا۔واضح رہے شام میں 14 سالہ خانہ جنگی کے دوران لاکھوں شامی شہری نقل مکانی پر مجبور ہوئے تھے۔ اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں سے متعلق ادارے نے کہا ہے کہ سال 2025 کی پہلی ششماہی میں تقریباً 10 لاکھ شامیوں کی وطن واپسی متوقع ہے۔ جبکہ سال 2024 میں پانچ لاکھ شہری اپنے ملک واپس پہنچے تھے۔