تاج محل میں ‘تیجو مہالیہ’ مندر کا دعویٰ، الہ آباد ہائی کورٹ کی مرکز و اے ایس آئی کو نوٹس

,

   

آگرہ، 7 جولائی (ایجنسیز) تاریخی تاج محل پر ایک بار پھر قانونی تنازعہ سامنے آ گیا ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے تاج محل کمپلیکس میں مبینہ لارڈ اگریشور مہادیو ناگناتھیشور ویراجمان تیجو مہالیہ مندر کے دعوے سے متعلق درخواست پر مرکزی حکومت، محکمہ آثار قدیمہ اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرکے تفصیلی جواب طلب کیا ہے۔ درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ تاج محل کمپلیکس میں ایک قدیم ہندو مندر موجود ہے، جس کی حقیقت جانچنے عدالت کی نگرانی میں ایڈوکیٹ کمشنر یا ماہرین کے ذریعے سروے کرایا جائے۔اس سے قبل آگرہ کی ٹرائل کورٹ اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج سروے کیلئے ایڈوکیٹ کمشنر مقرر کرنے کی درخواست مسترد کر چکے ہیں۔ ان فیصلوں کو چیلنج کرتے ہوئے درخواست گزاروں نے الہ آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور سابقہ عدالتی احکامات کو کالعدم قرار دینے کی بھی استدعا کی ہے۔اس کیس کی سماعت جسٹس روہت رنجن اگروال کی سنگل بنچ نے کی۔ درخواست گزاروں کی جانب سے سینئر وکیل ہری شنکر جین نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے جبکہ ایڈوکیٹ سومیا سریواستو نے عدالت میں شخصی طور پر دلائل پیش کیے۔عدالت کی جانب سے نوٹس جاری ہونے کے بعد اب مرکزی حکومت، اے ایس آئی اور دیگر جواب دہندگان کو مقررہ مدت میں اپنا تحریری جواب داخل کرنا ہوگا۔ اس معاملے میں اے ایس آئی کا مؤقف خصوصی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ تاج محل کی دیکھ بھال اور تاریخی ریکارڈ اسی ادارے کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔