غیر محسوب اثاثہ جات کا الزام
نئی دہلی، 13 اگست (یواین آئی) کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے الہ آباد ہائی کورٹ کے ایک حکم کو چیلنج کرنے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ۔یہ حکم بی جے پی کارکن ایس وگنیش ششر کی عرضی پر آیا تھا، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ کانگریس رہنما کے پاس ان کی آمدنی سے کہیں زیادہ اثاثے ہیں اور اہل خانہ کے خلاف بھی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ راہول گاندھی نے ایک الگ عرضی بھی دائر کی ہے ، جس میں معاملے کی کارروائی کو ہائی کورٹ سے سپریم کورٹ منتقل کرنے کی درخواست کی گئی ۔معاملے کی سماعت پیر، 17 اگست کو چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ پر ہوگی۔ ہائی کورٹ نے مئی میں سی بی آئی اور ای ڈی کو ششر کے الزامات کی تحقیقات اور تصدیق کی ہدایت دی تھی۔ اس کے بعد 20 جولائی کو جسٹس برج راج سنگھ اور جسٹس راجیش سنگھ چوہان پر مشتمل ہائی کورٹ بنچ نے سی بی آئی کے جواب پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور ایجنسی کو تحقیقات میں پیش رفت کی تفصیلات کے ساتھ نیا حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی۔اگلی سماعت کیلئے 20 اگست کی تاریخ مقرر کی تھی۔ راہول گاندھی نے سپریم کورٹ میں ان ہدایات کو چیلنج کیا ۔وگنیش ششر الہ آباد ہائی کورٹ میں ایک اور معاملے میں بھی درخواست گزار ہیں، جس میں انہوں نے شہریت قوانین کی خلاف ورزی پر راہل گاندھی کے خلاف فوجداری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔