الہ آبا د ہائی کورٹ کے حکمنامہ‘ بین مذہبی شادی کے لئے نوٹس اب لازمی نہیں ہے

,

   

یہ فیصلہ یوپی میں ایک ’لوجہاد‘ قانون کے پیش نظر سامنے آیاہے جس کے نفاذ کا مقصد مبینہ جبری تبدیلی مذہب کو ناکام بنانا ہے
الہ آباد ہائی کورٹ نے چہارشنبہ کے روز ایک فیصلہ میں اسپیشل شادی ایکٹ1954کے تحت شادی کے خواہاں جوڑے کے لئے نوٹس کی اجرائی کو لازمی نہیں کہا ہے‘ لائیو لاء نے اس بات کی خبر دی ہے۔

عدالت نے یہ استدلال دیا ہے کہ نوٹس کی اجرائی ایک فرد کے رازداری اور آزادی کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہوگی او رمزیدکہاکہ ایک فرد کس سے شادی کرنا چاہتا ہے اس حق میں مداخلت بھی ہوگی۔ مذکورہ عدالت نے یہ بھی موقف اختیار کیاکہ میریج افیسر”اس طرح کی کوئی نوٹس نہ جاری کرے گا او رنہ شادی کی منشاء پر کوئی اعتراض کرے گا اور شادی کی صداقت کے ساتھ آگے بڑھے گا“۔

یہ فیصلہ یوپی میں ایک ’لوجہاد‘ قانون کے پیش نظر سامنے آیاہے جس کے نفاذ کا مقصد مبینہ جبری تبدیلی مذہب کو ناکام بنانا ہے۔ تاہم دائیں بازو گروپوں بین مذہبی جوڑوں کو جو شادی کرنا چاہارہے ہیں انہیں ہراسانی کرنے او ران کے ساتھ بدسلوکی کرنے کے لئے دائیں بازو گروپ اس کو ہتھیار کے طور پر استعمال کررہے تھے۔

چوکسی اختیار کرتے ہوئے ان میں بعض کی مداخلت سنگین نتائج کی وجہہ بنے۔ نوٹس کی اشاعت نے ایسے گروپس کو چوکنا کیا اور بین مذہبی جوڑوں کو ان کی جانب سے نشانہ بنانے کی نشاندہی کا ذریعہ بھی بن گئے۔

یہ فیصلہ ایک بین مذہبی جوڑے کی جانب سے حبس بیجا کے متعلق دائرکردہ درخواست پر سامنے آیا ہے جس میں مذکورہ عورت کو اس کی فیملی شادی کرنے کی منظوری نہیں دے رہی تھی۔

جسٹس وویک چودھری کی زیر قیادت اس عدالت نے جوڑے کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے مزید کیاکہ ریاست یا غیر ریاست کے لوگ ایک فرد کے ساتھی چننے کی آزادی میں مداخلت کے مجاز نہیں ہیں۔

اس فیصلے کے نتیجے میں نوٹس کی اشاعت اختیاری ہوگئی ہے اور ایک جوڑے اگر نوٹس کی اشاعت چاہتا ہے تو میریج افیسر سے کو تحریرکرے یا تحریری درخواست دے۔

اس کے علاوہ 1954ایکٹ کے دیگر قوانین جیسے شناخت‘ عمر کی جانچ‘ جائز رضامندی اور شادی کے لئے اہلیت اب بھی برقرار ہیں۔

دی وائر نے بھی اس بات کی جانکاری دی ہے کہ حالیہ وقت میں الہ آبادہائی کور نے کئی مواقعوں پر بین مذہبی جوڑوں کو راحت پہنچانے کاکام کیاہے‘ چونکہ نومبر کے ایک مہینے میں ہی مذکورہ ہائی کور ٹ نے 125بین مذہبی جوڑوں کو تحفظ فراہم کرنے کاکام کیاہے۔

ہائی کورٹ15جنوری کے روز ’لوجہاد‘آرڈیننس کے ائینی جواز کو چیالنج کی جانے والے کئی درخواستوں پر سنوائی کی بھی تیاری کررہا ہے۔