امدادی قیمت پر گیہوںکی خریدی حکومت کی جملے بازی

   

چندی گڑھ: این جی او رورل انڈیاکے صدر اور ہریانہ ریاستی کانگریس کمیٹی کے ترجمان ویدپرکاش ودروہی نے الزام لگایا کہ بی جے پی اورجن نائک پارٹی گیہوں اور سرسوں کو ایک ایک دانا کم از اکم امدادی قیمت پر خریدنے کا دعوی حکومت کی جملے بازی نکلا۔ودروہی نے منگل کو جاری ایک بیان میں کہا کہ 15مئی کو پوری ریاست میں گیہوں اور ریاست کی سرکاری خرید ایم ایس پی پر باقاعدہ طور پر بندکرنے کا اعلان کر دیا۔ سرسوں کی فصل خریداری تو تقریبا 15دن پہلے ہی بند کر دی گئی تھی، لیکن کسانوں کے شدید مخالفت کے بعد 11 اور 12 مئی کو ریواڑی، مہیندر گڑھ، گروگرام، نوہ، چرخی دادری اور جھجھر میں سرسوں کی سرکاری خرید اری کرکے بند کر دی گئی تھی۔ اس طرح اس سال ربیع کی فصل بی جے پی -جے جے پی حکومت نے ہریانہ حکومت کے سرکاری پورٹل پر درج کسانوں کی ایم ایس پی پر نہ تو پوری سرسوں خریدی اور نہ ہی گیہوں کی خرید ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ 15مئی تک پوری ریاست میں گیہوں کی 62.36 لاکھ ٹن ہی آمد ہوئی جب کہ ہدف 85لاکھ ٹن گیہوں کا تھا۔ اس سال بی جے پی حکومت نے اپنے ہی مقررہ ہدف سے 23لاکھ ٹن گیہوں کم خریدا ہے ۔
انہوں نے سوال کیا کہ جب حکومت کو سرکاری پورٹل پر درج کسانوں کا گیہوں اور سرسوں بھی پورا نہیں خریدا تھا تو پورٹل کے اس کھیل سے کسانوں کے ساتھ کیوں فریب کیا گیا۔
مسٹر ودروہی نے کہا کہ اس سال گیہوں اور سرسوں کی پیداوار پر کسانکو دوہری مار پڑی ہے ۔ حکومت نے کسانوں کی سرسوں اور گیہوں نہ خرید کر اسے تاجروں اور کے رحم کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ وہیں بارش،آندھی اور اولے سے برباد فصل کا پورا معاوضہ نہ ملے ،اس کا ساز باز بھی بیمہ کمپنیوں کے ساتھ لڑا گیا۔کسانوں نے سرکاری پورٹل پر 17.4لاکھ ایکڑ زمین میں گیہوں اورسرسوں کی فصل میں خرابی دکھائی جب کہ بی جے پی حکومت نے اپنی مبینہ خصوصی گرداوری میں صرف 3.20لاکھ ایکڑ زمین کو ہی فصل معاوضے کے لائق مانا ہے جو متاثرہکسانوں کے ساتھ ساتھ سراسر دھوکہ ہے ۔