امریکہ میں اعلیٰ تعلیم کے خواہش مندوں کے سوشیل میڈیا کی جانچ

   

دنیا بھر کے طلبہ کے لیے ویزا انٹرویوز پر روک ، امریکہ میں مقیم ہندوستانی طلبہ کو چوکس رہنے کی ضرورت
حیدرآباد۔28۔مئی ۔ (سیاست نیوز ) دنیا بھر میں اظہار خیال کی آزادی اور جمہوری اقدارکی وکالت کرنے والے امریکہ نے اب امریکہ میں اعلیٰ تعلیم کے لئے داخل ہونے والے طلبہ کی مکمل جانچ اور ان کے سوشل میڈیا کھاتوں پر ان کے نظریات کی جانچکو سخت کرنے کے اقدامات شروع کردیئے ہیں اور دنیا بھر میں طلبہ کے لئے جاری کئے جانے والے ویزا انٹرویو پر روک لگادی ہے!امریکہ میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے خواہشمندوں کے لئے ٹرمپ انتظامیہ نے نئی مصیبت کھڑی کرتے ہوئے ان کے ویزا درخواستوں کے ادخال پر ان کے سوشل میڈیا کھاتوں کی مکمل جانچ کے بعد ہی ویزوں کی اجرائی کا فیصلہ کیا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ امریکہ نے اپنے حدود کو محفوظ بنانے کے اقدامات کے طور پر کی جانے والی اس کاروائی کے سلسلہ میں جن اقدامات کا آغاز کیا ہے اس کے متعلق حکام کا کہناہے کہ امریکہ کو محفوظ بنانے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ اگر اپنی یونیورسٹی تبدیل کرتے ہیں یا کلاسس میں شریک نہیں ہوتے ہیں تو ایسی صورت میں ان کے ویزوں کی تنسیخ کا گذشتہ یوم فیصلہ کیا گیا تھا اور ٹرمپ انتظامیہ نے امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے والے تمام طلبہ کی تفصیلات حاصل کرتے ہوئے ان کے کلاسس میں شرکت اور جامعات کی تبدیلی کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی منصوبہ بندی کا انکشاف ہوا تھا۔قونصل خانہ امریکہ متعینہ حیدرآباد کے ترجمان نے طلبہ کے لئے امریکی ویزوں کی اجرائی پر روک کے سلسلہ میں اطلاعات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ امریکی نان امیگرنٹ ویزوں کے لئے درخواست داخل کرنے والی کی مکمل جانچ کی جاتی ہے ۔ ترجمان امریکی قونصل خانہ نے بتایا کہ 2019 سے امریکی ویزا درخواست گذاروں کے سوشل میڈیا کھاتوں کی تمام تر تفصیلات حاصل کی جا رہی ہیں اور ان کی جانچ کے ذریعہ اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ امریکہ میں داخل ہونے والا شخص خواہ و دنیا کے کسی بھی ملک یا مقام سے تعلق رکھتا ہووہ امریکہ کے لئے نقصاندہ نہیں ہے۔ انہو ں نے بتایا کہ امریکی ویزاکے لئے درخواست داخل کرنے والے درخواست کے ادخال سے ویزے کی اجرائی تک مکمل جانچ کے عمل سے گذرتے ہیں۔ امریکی عہدیداروں کی جانب سے کی جانے والی اس وضاحت کے باوجود آج سوشل میڈیا پر ویزے کے استردادکے متعلق جو درخواست گذار تفصیلات فراہم کر رہے ہیں ان کا کہناہے کہ طلبہ کی ویزا درخواستوں کو اندرون 10 سکنڈ مسترد کردیا گیا ہے۔امریکہ میں مقیم ہندستانی نوجوان جو امریکہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں اب انہیں بھی چوکنا رہتے ہوئے تعلیم حاصل کرنی چاہئے کیونکہ امریکی حکام اور عہدیداروں کی جانب سے ان کی یونیورسٹی میں حاضری ‘ جامعہ کی تبدیلی کے علاوہ مقدمات کے متعلق تفصیلات حاصل کی جار ہی ہیں اور اگر وہ اپنے مقدمات کی سماعت میں حاضر نہیں ہوتے ہیں تو ایسی صورت میں بھی ان کے ویزاکو منسوخ کیا جاسکتا ہے۔بتایاجاتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے کئے گئے فیصلہ کے مطابق ان وجوہات کی بناء پر جن کا ویزا منسوخ کیا جاتا ہے ان کو دوبارہ امریکہ میں داخلہ نہیں دیاجائے گا۔3