امریکہ میں کورونا ریلیف انیشیٹو میں 200ارب ڈالرز کے غبن کا انکشاف

   

نیویارک : امریکی تحقیقاتی ایجنسی نے کورونا وبا کے دوران ’پے چیک پروٹیکشن‘ اور ’کووڈ-19 اکنامک انجری ڈیزاسٹر لون‘ سمیت تین مختلف کووڈ ریلیف انیشیٹوز میں 200 ارب ڈالرز سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف کیا ہے۔سمال بزنس ایڈمنسٹریشن کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق کورونا وبا کے دوران متاثر چھوٹے کاروباری طبقات کی مدد کیلئے شروع کیے گئے انیشیٹوز میں مالیاتی غبنسے متعلق لگائے گئے پچھلے اندازوں سے کہیں زیادہ مالیت کے غبن کے شواہد سامنے آئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق متاثرین میں تقسیم کیے جانے والے فنڈز میں سے مبینہ طور پر تقریباً 17 فیصد جعلی متاثرین کو امداد دی گئی تھی، جس کی مالیت لگ 136 بلین ڈالرز بنتی ہے اور یہ تقسیم کی گئی کل رقم کا 33 فیصد بنتی ہے۔اسمال بزنس ایڈمنسٹریشن کے ایک سینیئر اہلکار نے ایڈمنسٹریشن انسپکٹر کی جانب سے جاری کیے گئے نئے اعداد و شمار پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے حد سے زیادہ تخمینہ قرار دیا۔واضح رہے کہ اس سے قبل ڈیزاسٹر لون پروگرام میں غبن کا تخمینہ 86 بلین ڈالرز لگایا گیا تھا، جبکہ ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ متاثرین کی بحالی اور مدد کیلئے وفاقی حکومت کیتینوں پروگرامز میں 280 بلین ڈالرز پر جھاڑو پھیرا گیا تھا۔ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق تینوں پروگرام سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دور میں شروع کیے گئے تھے اور بائیڈن کے دور تک جاری رہے۔