مصنوعی ذہانت اور ہائپر سونک میزائل فعال بنانے جدید ترین کمپیوٹر چپس کی داخلی سطح پر تیاری چین کی اولین ترجیحات میں شامل
واشنگٹن: تیزی سے بدلتے عالمی منظر نامے میں امریکہ کا چین کو کمپیوٹر چپس کی فروخت پر پابندی کا فیصلہ کیا ہے جو خاصی اہمیت کا حامل ہے۔ چین کے لئے یہ جدید چپس انتہائی ضروری ہیں اور اس کے کئی ایک منصوبے متاثر ہوں گے ۔ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے اپنے حریف ملک چین کو جدید ترین کمپیوٹر چپس کی برآمد روکنے کے لئے گزشتہ ماہ حتمی قدم اٹھایا ۔ تیزی سے بدلتے اور جدید تر ہوتے دور میں اس امریکی اقدام کو دنیا کی دو سب سے بڑی اقتصادی قوتوں کے مابین ایک نئے باب کی شروعات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ کئی مبصرین کی رائے میں یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بائیڈن انتظامیہ چین کے ساتھ مسابقت میں اہم فیصلے لینے کی اہل ہے۔ دو دہائیوں تک دنیا بھر کی توجہ دو طرفہ تجارت کو فروغ دینے اور عالمی اقتصادی نمو پر مرکوز رہی ۔ اب البتہ دو سب سے بڑی معاشی قوتیں ملکی مفادات کو ترجیح دے رہی ہیں۔ اس وقت عالمی معیشت پر بلند افراط زر اور اقتصادی بد حالی کے سیاہ بادل چھائے ہوئے ہیں ۔ ایسے میں چین اور امریکہ دونوں ہی کمپیوٹر چپس کی تیاری کو اپنی اپنی معاشی ترقی اور دفاعی مفادات کے لئے اہم تصور کرتے ہیں ۔ امریکہ کی کامرس سیکرٹری جینا رائیمونڈو نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں کہا تھا، ”ہم امریکی شہریوں کو چین سے لاحق خطرات سے بچانے کے لئے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ چین اس ٹکنالوجی کو نگرانی اور سائبر حملوں کے لیے استعمال کرے گا ، ”چین اس ٹکنالوجی کو ہمیں اور ہمارے اتحادیوں کو نقصان پہنچانے اور تحفظ کی صلاحیت کو کمزور بنانے کے لئے بروئے کار لائے گا ۔‘‘دوسری جانب چینی صدر ژی جن پنگ نے امریکی اقدام کے رد عمل میں اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ان کا ملک سیمی کنڈکٹرز کی پیداوار میں خود کفیل بننے کے لئے زیادہ موثر طریقے اور تیزی سے کام کرے گا ۔ کمیونسٹ پارٹی کی کانگریس سے اپنے خطاب میں چینی صدر نے کہا تھا، ”چین کی اختراعی صلاحیت کے فروغ کے لئے کئی اسٹریٹیجک اور طویل المدتی ملکی منصوبوں کو تیزی سے آگے بڑھایا جائے گا ‘‘۔ چینی حکومت نے مصنوعی ذہانت اور ہائپر سونک میزائلوں کو مزید فعال بنانے کے لئے جدید ترین کمپیوٹر چپس کی داخلی سطح پر تیاری کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کر لیا ہے۔ البتہ جب تک چین خود کفالت کے اس مقام تک نہیں پہنچتا، اس وقت تک چین کو امریکی چپس کی درآمد پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔ لیکن اب امریکی فیصلے کے بعد یہ ناممکن ہو گیا ہے اور چین کے کئی اہم منصوبے تاخیر کا شکار ہو سکتے ہیں ۔ سرد جنگ کے بعد امریکہ سمیت بیشتر ممالک کی سوچ یہی رہی ہے کہ مضبوط اقتصادی روابط ممالک کو قریب لانے میں معاون ثابت ہوں گے، جس سے دنیا زیادہ محفوظ اور اقتصادی طور پر زیادہ کامیاب ہو گی۔ تاہم کورونا کی عالمی وبا، یوکرین میں جنگ اور چین کے ‘توسیع پسندانہ عزائم‘ کی بدولت نہ صرف بائیڈن انتظامیہ بلکہ کئی ایشیائی ممالک نے بھی قومی سلامتی اور صنعتی ترقی کی نئی حکمت عملی اپنانا شروع کر دی ہے۔