امریکہ کے سخت گیر رویہ نے معاہدہ کی راہ میں رکاوٹ ڈالی :پزشکیان

,

   

l امریکہ کے پاس خیرسگالی کا فقدان، امریکی اعلیٰ حکام نے ہٹ دھرمی دکھائیl فرانسیسی صدر میکرون سے ٹیلیفونک بات چیت

تہران ۔ 14 اپریل (ایجنسیز) اسلام آباد میں ایرانی اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے نئے دور کے انتظار کے درمیان ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے خیر سگالی کے فقدان اور سخت گیر موقف نے گذشتہ ہفتے کو معاہدہ کے حصول میں رکاوٹ ڈالی۔فرانسیسی صدر ایمانویل میکروں کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کے دوران مسعود پزشکیان نے کہا کہ دونوں جانب سے ماہرین کی سطح پر مفاہمت کے باوجود امریکی اعلیٰ حکام کی ہٹ دھرمی اور سیاسی ارادے کی کمی معاہدے کی تکمیل میں آڑے آئی۔منگل کو انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ ان کے ملک نے معاہدے اور مکمل جنگ بندی کیلئے اپنی شرائط واضح کر دی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دھمکیاں اور دباؤ صرف ان مسائل کو مزید بگاڑیں گے جو امریکہ نے خود اس خطے میں پیدا کیے ہیں۔ ایران کی صدر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کا ملک قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے امریکی فریق کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کیلئے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپ ان مذاکرات میں تعمیری کردار ادا کر سکتا ہے۔مسعود پزشکیان نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کے حوالے سے حالیہ دھمکی کا بھی تذکرہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کے ملک نے ہمیشہ اس تزویراتی گزرگاہ سے بحری جہازوں کے محفوظ گزرنے کو یقینی بنانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس خطے کی سکیورٹی کو لاحق کوئی بھی خطرہ عالمی تجارت پر وسیع اثرات مرتب کرے گا، تاہم ایران اپنے قومی مفادات کے فریم ورک میں کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے مکمل طور پر تیار ہے۔یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب آبنائے ہرمز پر واقع ایرانی بندرگاہوں کے امریکی بحری محاصرے کو دوسرا دن ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور اسلام آباد یا جنیوا میں متوقع ہے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کی مذاکراتی ٹیمیں آئندہ چند روز میں دوبارہ اسلام آباد پہنچ سکتی ہیں۔ اس سے قبل پاکستانی دارالحکومت میں 1979ء کے بعد ہونے والے اعلیٰ ترین سطح کے مذاکرات بغیر کسی پیشرفت کے ختم ہو گئے تھے۔ مذاکرات میں شامل ایک ذریعہ نے بتایا کہ ابھی حتمی تاریخ طے نہیں ہوئی تاہم دونوں فریق اس ہفتے کے آخر تک دوبارہ مل سکتے ہیں۔ ایک سینئر ایرانی ذریعے کے مطابق مذاکرات کاروں نے جمعہ سے اتوار تک کا وقت کھلا رکھا ہے۔ واضح رہے کہ گذشتہ ہفتہ اسلام آباد میں ہونے والی براہ راست ملاقاتیں جو تقریباً 21 گھنٹے تک جاری رہیں، امریکہ اور ایران کے درمیان تنازعہ کا کوئی حل نکالے بغیر ختم ہو گئیں۔ یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں ہے جب دونوں ممالک اور اسرائیل کے درمیان عارضی جنگ بندی برقرار ہے، جو 28 فروری 2026ء کو شروع ہونے والی 40 روزہ جنگ کے بعد عمل میں آئی تھی۔