امریکہ اور ایران کے مابین جو عبوری معاہدہ طئے پایا تھا اور جس میں مستقل معاہدہ کیلئے بات چیت کرنے دو ماہ کا وقت فراہم کیا گیا تھا اب اس کے تعلق سے ہی اندیشے لاحق ہوگئے ہیں اور یہ اندیشے کسی اور کے نہیں بلکہ خود امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے بیان سے لاحق ہوئے ہیں۔ ٹرمپ ترکیہ میں نیٹو چوٹی کانفرنس میں شرکت کیلئے پہونچے تھے اور وہاں انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں ایران کے ساتھ عبوری معاہدہ ختم ہوچکا ہے ۔ ٹرمپ نے ایران کے تعلق سے کچھ ایسے ریمارکس بھی کئے ہیں جن کے بعد اس معاہدہ کے تعلق سے امیدیں ٹوٹنے لگی ہیں۔ آبنائے ہرمز میں تین بحری جہازوں پر حملوں کے واقعات پیش آئے تھے اور یہ دعوی کیا گیا ہے کہ ان حملوں کیلئے ایران ہی ذمہ دار ہے ۔ ایران نے اس تعلق سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے ۔ آبنائے ہرمز میں کئے گئے ان حملوں کے بعد امریکہ نے ایران کے خلاف فضائی حملے کئے ہیں۔ ایران کی کچھ اہم تنصیبات کو ان حملوں کے ذریعہ نشانہ بنایا گیا ہے ۔ ایران نے بھی اس کے جواب میں کچھ کارروائیاں کی ہیں اور اس کا کہنا ہے کہ خلیج میں ہر وہ مقام اس کیلئے نشانہ ہوسکتا ہے جہاں سے امریکہ ایران کے خلاف حملے کرسکے ۔ یہ صورتحال اچانک ہی تبدیل ہوئی ہے اور اس کے نتیجہ میں عالمی سطح پر ایک بار پھر اندیشے لاحق ہونے شروع ہوگئے ہیں۔ جس وقت یہ معاہدہ طئے پایا تھا اسی وقت سے کچھ گوشوں کی جانب سے اس تعلق سے شبہات ظاہر کئے جا رہے تھے اور کہا جا رہا تھا کہ یہ معاہدہ شائد دیرپا ثابت ہونے نہیں پائے گا اور فی الحال جو آثار پیدا ہوئے ہیں وہ بھی اسی بات کی سمت اشارہ کرتے ہیں۔ حالانکہ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ مزید بات چیت اور مذاکرات کو جاری رکھنے کی اجازت دیں گے تاہم جہاں تک ان کا سوال ہے یہ معاہدہ ایک طرح سے ختم ہوچکا ہے ۔ یہ ایسی صورتحال اچانک پیدا ہوگئی ہے جس کی توقع فی الحال نہیں کی جا رہی تھی ۔ اس کے نتیجہ میں ایک بار پھر عالمی سطح پر تشویش کی لہر ضرور پیدا ہوگئی ہے ۔
ٹرمپ کے بیان کے بعد عالمی مارکٹ پر اس کے اثرات دیکھنے میںآنے شروع ہوگئے ہیں۔ کئی ممالک میں اسٹا مارکٹ پر منفی اثرات مرتبہ وئے ہیں۔ ہندوستان میں بھی شئیر بازار میں بھاری گراوٹ دیکھی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میںپانچ فیصد تک کا اضافہ ہوگیا ہے ۔ امریکہ اور ایران کے مابین عبوری معاہدہ کے بعد دنیا بھر میں حالات بہتر ہونے کی امید کی جا رہی تھی ۔ کئی ممالک کی معیشیں بھی بہتری کی راہ پر آگے بڑھنے کی امید تھی ۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں استحکام پیدا ہو رہا تھا ۔ تیل کی قیمتیں ما قبل جنگ کی سطح پر واپس آگئی تھیں۔ سپلائی بھی بحال ہونے لگی تھی اور حالات کے بتدریج بہتر ہونے کے اشارے مل رہے تھے ۔ تاہم اچانک ہی ٹرمپ کے بعد کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس کے نتیجہ میں ایک بار پھر اندیشے اور شبہات نے تقویت پائی ہے اور اس کے اثرات عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں پر واضح طور پر دکھائی دے رہے ہیں ۔ یہ اندیشے بھی لاحق ہوگئے ہیں کہ قیمتوں میں اضافہ کے بعد سپلائی چین بھی متاثر ہوسکتی ہے اور اس کے نتیجہ میں حالات مزید بگڑنے کا بھی اندیشہ ہے ۔ بہتر ہوتی ہوئی عالمی معیشت کے سدھرنے اور مستحکم ہونے کیلئے اب مزید وقت درکار ہوسکتا ہے اور اس کے نتیجہ میں کئی ممالک پر منفی اثرات کے اندیشوں کو مسترد نہیں کیا جاسکتا ۔
اب جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس کو بہتر بنانا بھی زیادہ آسان نہیںہوگا ۔ جو عبوری معاہدہ ہوا تھا اس کیلئے بھی بہت زیادہ جدوجہد کی گئی تھی ۔ مسلسل کاوشوں کے بعد عبوری معاہدہ ہوا تھا اور اب اچانک ہی یہ عبوری معاہدہ ٹھپ ہوتا نظر آر ہا ہے ۔ ٹرمپ نے اپنے طور پر تو اس معاہدہ کے ختم ہونے کا بھی اعلان کردیا ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سفارتی اور مصالحتی کاوشوں کو مزید شدت کے ساتھ آگے بڑھایا جائے ۔ دونوںممالک کے مابین اعتماد سازی کے اقدامات پر توجہ دی جائے اور عبوری معاہدہ کو برقرار رکھتے ہوئے مستقل معاہدہ کو یقینی بنانے کیلئے جدوجہد کی جائے ۔