یہ ایک صریحاً غیرآئینی حکم ہے، واشنگٹن کے ڈسٹرکٹ جج کو فینور کا ریمارک۔ ٹرمپ کے آرڈر کا دفاع کرنے محکمہ انصاف کا عزم
واشنگٹن: امریکہ کے ایک وفاقی جج نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے پیدائشی حق شہریت کی ازسر نو صراحت کرنے والے ایگزیکٹو آرڈر کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اسے عارضی طور پر روک دیا۔محکمہ انصاف نے کہا کہ وہ صدر کے ایگزیکٹو آرڈر کا ’’ بھرپور طریقے سے دفاع‘‘ کرے گا جو بقول اسکے’’امریکی آئین کی 14ویں ترمیم کی صحیح تشریح کرتا ہے‘‘۔ واضح رہے کہ امریکی ریاستوں ایریزونا، الینوائے، اوریگون اور واشنگٹن نے صدر کے ایگزیکٹو آرڈر کو عارضی طور پر روکنے کیلئے حکم امتناعی کی عدالت میں استدعا کی تھی۔اس سلسلے میں قانونی چارہ جوئی کرنے والوں کا استدلال ہے کہ امریکی آئین کی 14ویں ترمیم امریکہ میں پیدا ہونے والے لوگوں کیلئے شہریت کی ضمانت دیتی ہے اور ریاستیں ایک صدی سے اس ترمیم کی یہی تشریح کر رہی ہیں۔امریکی آئین کی 14ویں ترمیم کے تحت امریکی سرزمین پر پیدا ہونے والے بچے کو شہریت کا حق حاصل ہے جس کی توثیق 1868ء میں کی گئی تاکہ خانہ جنگی کے بعد سابق غلاموں کیلئے امریکی شہریت کو یقینی بنایاجا سکے۔ٹرمپ کے حکم نامے کے تحت 19 فروری کے بعد پیدا ہونے والے ان بچوں کو جن کے والدین امریکہ میں غیر قانونی طور پر موجود ہیں، امریکی شہریت نہیں دی جائے گی۔اس کے تحت امریکی ادارے ان کیلئے کسی قسم کی دستاویزات جاری نہیں کریں گے اور نہ ہی کوئی ایسی ریاستی دستاویز قبول کریں گے جس میں ان بچوں کی امریکی شہریت کو تسلیم کیا گیا ہو۔یہ پہلا موقع تھا کہ یو ایس ڈسٹرکٹ جج کے سامنے یہ کیس زیر سماعت آیا اور اس کا اطلاق قومی سطح پر ہوتا ہے۔ریاست واشنگٹن کے ڈسٹرکٹ جج جان کوفینور نے محکمہ انصاف کے وکیل سے استفسار کیا کہ وہ اس حکم کو آئینی کیسے سمجھ سکتے ہیں؟ یہ مقدمہ امریکہ بھر میں 22 ریاستوں اور تارکین وطن کے حقوق کے متعدد گروپوں کی طرف سے لائے جانے والے پانچ مقدمات میں سے ایک ہے۔اس مقدمے میں ان اٹارنیز جنرل کی ذاتی شہادتیں شامل ہیں جو پیدائشی حق کے لحاظ سے امریکی شہری ہیں۔مقدمے میں ان حاملہ خواتین کے نام بھی شامل ہیں جنہیں ڈر ہے کہ ان کے بچے امریکی شہری نہیں بن پائیں گے۔سماعت کرنے والے 84 سالہ جج کوفینور نے، جنہیں سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن نے مقرر کیا تھا، کہا،’’یہ ایک صریحاً غیر آئینی حکم ہے‘‘۔جمعرات کا فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ کو 14 دنوں کیلئے ایگزیکٹو آرڈر پر عملدرآمد کیلئے اقدامات کرنے سے روکتا ہے۔ اس دوران فریقین ٹرمپ کے حکم کے میرٹ(اس کے درست یا نہ درست ہونے) کے بارے میں مزید دلائل پیش کریں گے۔جج کوفینور نے یہ فیصلہ کرنے کیلئے 6 فروری کو ایک سماعت طے کی ہیکہ ایک ایسے وقت میں جب کارروائی جاری ہیآیا اس کیس کو طویل مدت تک روکا جانا چاہئے۔ محکمہ انصاف نے کہا کہ اسے امید ہے کہ اس مقدمے کے میرٹ کے حق میں دلائل عدالت اور امریکی عوام کے سامنے رکھے جائیں گے جو قوم کے قوانین کا نفاذ دیکھنے کیلئے بے چین ہیں۔مقدمہ دائر کرنے والی ریاستوں کی طرف سے بحث کرتے ہوئے ریاست واشنگٹن کے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل لین پولوزولا نے حکومت کی اس دلیل کی مخالفت کی کہ غیر قانونی طور پر رہنے والے والدین کے بچے امریکہ کے دائرہ اختیار کے تابع نہیں ہیں۔