3 ٹریلین ڈالر معیشت حکومت کا نشانہ، امریکہ میں انڈین اوورسیز کانگریس کا اجلاس، جوپلی کرشنا راؤ اور ارکان اسمبلی شریک
حیدرآباد۔ 2 اگست (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا نے امریکی صنعت کاروں کو تلنگانہ میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ 2047 تک ریاست کی معیشت کو 3 ٹریلین ڈالر تک ترقی دینے حکومت نے منصوبہ تیار کیا ہے۔ بھٹی وکرامارکا دورۂ امریکہ کے موقع پر انڈین اوورسیز کانگریس کے نمائندوں سے خطاب کررہے تھے۔ امریکن تلگو اسوسی ایشن کے اجلاس میں شرکت کے لئے بھٹی وکرامارکا اور کانگریس کے دیگر عوامی نمائندے ان دنوں امریکہ میں ہیں۔ بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ ترقی اور فلاح و بہبود حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ریاست میں بیرونی سرمایہ کاری کے لئے سازگار ماحول ہے لہذا امریکی اداروں اور صنعت کاروں کو اس جانب توجہ دینی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ 2047 تک ریاست کی معیشت کو 3 ٹریلین ڈالر جبکہ آئندہ 5 برسوں میں ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت تیار کرنے کا نشانہ مقرر کیا گیا ہے۔ حکومت نے تلنگانہ رائزنگ 2047 ویژن تیار کیا ہے۔ حیدرآباد، سکندرآباد اور سائبرآباد کے بشمول تین بڑے شہر تیار کرنے کی منصوبہ بندی ہے۔ انہو نے کہا کہ بھارت فیوچر سٹی میں صنعتی اداروں کے قیام کی گنجائش فراہم کی گئی ہے۔ ریاست کو تین علیحدہ زونس میں تقسیم کیا گیا ہے اور کیور، پیور اور ریر ڈیویژنس میں ترقی کا جامع منصوبہ تیار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو اسکل ڈیولپمنٹ کے لئے ینگ انڈیا اسکل یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔ ریاست کے 2100 سرکاری آئی ٹی آئیز کو اڈوانسڈ ٹیکنالوجی سنٹرس میں تبدیل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری سطح پر پہلی مرتبہ تلنگانہ ماڈل اسکولس قائم کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اسکولوں اور جونیر کالجس کے 27 لاکھ طلبہ کو حکومت کی جانب سے ناشتہ فراہم کرنے کی اسکیم پر کامیابی سے عمل کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلی تا 12 ویں جماعت تک طلبہ اور ٹیچرس کے لئے دوپہر کے کھانے کی اسکیم متعارف کی گئی۔ بھٹی وکرامارکا نے سرکاری اراضیات اور جھیلوں و تالابوں کے تحفظ کے لئے حیڈرا کی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی آر ایس کے 10 سالہ دور حکومت میں عوام کے فلاحی کاموں کو نظرانداز کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں ہر ماہ کی 15 سے 25 تاریخ تک جاری کی جاتی تھیں لیکن کانگریس حکومت نے کمزور معاشی موقف کے باوجود ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو تنخواہوں کی اجرائی کا آغاز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کے لئے 1.20 کروڑ کی مفت انشورنس اسکیم متعارف کی گئی ہے۔ انہوں نے 6 ضمانتوں پر عمل آوری کا دعویٰ کیا اور کہا کہ حکومت نے انتخابی وعدوں کی تکمیل کا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ اجلاس میں وزیر سیاحت جوپلی کرشنا راؤ، گورنمنٹ وہپ ادنکی دیاکر، ارکان اسمبلی پی رام موہن ریڈی، راکیش ریڈی، کے یادیا، ڈی مادھو ریڈی، وائی سرینواس ریڈی، صدر نشین وجئے ڈائری جی امیت ریڈی اور انڈین اوورسیز کانگریس کے قائدین شریک تھے۔ 1؍F