انا یونیورسٹی جنسی ہراسانی معاملے کی ایس آئی ٹی جانچ کا حکم

   

چینائی :مدراس ہائی کورٹ نے انا یونیورسٹی کیمپس میں طالبہ سے جنسی زیادتی کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم کو جانچ کا حکم دیا اور حکومت کو ہدایت دی کہ وہ متاثرہ کو ذہنی صدمے کیلئے 25 لاکھ روپے معاوضہ دے ۔عدالت نے یونیورسٹی کو ہدایت کی کہ متاثرہ کو مفت تعلیم اور ہاسٹل کی سہولیات کے علاوہ ضروری نفسیاتی مدد فراہم کی جائے ۔ عدالت نے پولیس کو متاثرہ اور اس کے اہل خانہ کو تحفظ فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔ عدالت نے ایف آئی آر لیک ہونے پر چینائی پولیس کمشنر اے ارون کی سرزنش کے بعد دوبارہ سماعت شروع کرکے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ گرفتار شخص ہی اصل مجرم ہے اور اس جرم میں صرف ایک شخص ملوث ہے ۔ جسٹس ایس ایم سبرامنیم اور وی لکشمی نارائن کی بنچ نے تحقیقات میں مختلف خامیوں کو اجاگر کرنے کے بعد تین آئی پی ایس خواتین افسروں اسنیہا پریا، ایمان جمال اور برندا کی ایس آئی ٹی کو تحقیقات کا حکم دیا۔ بنچ نے کہا کہ ایس آئی ٹی ایف آئی آر لیک کی بھی جانچ کرے گی۔یہ نوٹ کرکے کہ خواتین کی حفاظت ریاست اور معاشرے کا فرض ہے ، بنچ نے ایف آئی آر کے طریقہ کا سنجیدگی سے نوٹس لیا اور کہا کہ اسے قصوروار ٹھہراکر یا شرمندہ کر کے نہیں کیا جا سکتا۔عدالت نے کہا کہ یہ خواتین کے ساتھ دشمنی ہے ۔