انضمام حیدرآباد سے سیاسی فائدہ اٹھانے بی جے پی و ٹی آر ایس کوشاں

   

قومی یکجہتی اور لبریشن ڈے کے نام پر مباحث ۔ کانگریس ایم پی اتم کمار ریڈی کی تنقید

حیدرآباد 17 ستمبر ( سیاست نیوز ) کانگریس رکن پارلیمنٹ کیپٹن این اتم کمرا ریڈی نے بی جے پی ‘ ٹی آر ایس اور مجلس پر الزام عائد کیا کہ وہ سابقہ ریاست حیدرآباد کے انڈین یونین میں انضمام سے سیاسی فائدہ حاصل کرنے تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ حضور نگر میں انضمام حیدرآباد تقریب کے موقع پر قومی پرچم لہرانے کے بعد خطاب کرتے ہوئے اتم کمار ریڈی نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے ہی نظام کی حکمرانی کے خلاف اور رضاکاروں کے خلاف جدوجہد کی تھی ۔ کئی کانگریس قائدین ‘ کمیونسٹ قائدین اور عوام نے حیدرآباد کیلئے اپنی جانیں قربان کردیں۔ ان میں تمام برداریوں اور طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے ۔ سبھی کی کوشش تھی کہ ریاست حیدرآباد کا انڈین یونین میں انضمام ہوجائے ۔ انہوں نے کہا کہ آج بی جے پی ‘ ٹی آر ایس اور مجلس کی جانب سے سیاسی مفادات کیلئے تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے ۔ یہ لوگ تاریخ کے تصوراتی قصے بیان کر رہے ہیں اور بی جے پی کی جانب سے انضمام حیدرآباد کو لبریشن ڈے قرار دیا جا رہا ہے جو انتہائی افسوسناک ہے ۔ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ اس وقت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو اور سردار پٹیل نے آپریشن پولو انجام دیا تھا تاکہ حیدرآباد ریاست کا انڈین یونین میں انضمام کیا جاسکے ۔ اس وقت کئی کانگریس قائدین نے بھی رضاکاوں کے خلاف جدوجہد کی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی 1949 سے ہی حیدرآباد ریاست کے انڈین یونین میں انضمام کی تقاریب کا 17 ستمبر کو انعقاد عمل میں لا رہی ہی ۔ بی جے پی نے جدوجہد آزاد ی کو فرقہ وارانہ رنگ دینے تاریخ کو مسخ کرکے پیش کیا ہے ۔ اسی طرح ٹی آر ایس حکومت بھی قومی یکجہتی تقاریب کا اہتمام کرتے ہوئے اس میں حصہ داری حاصل کرنا چاہتی ہے ۔ حالانکہ ان دونوں جماعتوں کا انضمام حیدرآباد کی جدوجہد سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ یہ لوگ صرف اپنی اپنی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے قومی یکجہتی یا لبریشن ڈے کے نام پر مباحث میں ملوث ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے اس بیان کی مذمت کی کہ کچھ لوگ اب بھی رضاکاروں سے خوفزدہ ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا امیت شاہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ رضا کار اب بھی موجودہ یں۔ انہیں اس پر وضاحت کرنے کی ضرورت ہے ۔ کیپٹن اتم کمار ریڈی نے قبل ازیں ناگرجنا ساگر ڈیم کا دورہ کیا اور انہوںنے وہاں لفٹ کنال میں آئے شگاف کا بھی معائنہ کیا ۔ انہوں نے عہدیداروں سے اس تعلق سے معلومات حاصل کیں۔