انڈونیشیاء کا بھی کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی کا فیصلہ

   

آسٹریلیا میں کچھ عرصے قبل 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کی قانون سازی کی گئی تھی جس پر عملدرآمد رواں سال کسی وقت ہوگا۔اب آبادی کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے مسلم ملک انڈونیشیا نے بھی ایسا ہی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق انڈونیشیا میں بچوں کو نقصان دہ آن لائن مواد سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے عمر کی حد طے کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔انڈونیشین صدر سبیانٹو پروباؤنے وزرا کو بتایا کہ ایسے قوانین ایک سے 2 ماہ میں مرتب کیے جائیں جن کے ذریعے آن لائن بچوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔انڈونیشیا کی وزیر برائے ڈیجیٹل افیئر نے ایک بیان میں بتایا کہ ان قوانین میں سوشل میڈیا کو استعمال کرنے کے لیے عمر کی حد کا قانون بھی شامل کیے جانے کا امکان ہے۔حکام کی جانب سے آن لائن سرگرمیوں کی مانیٹرنگ بھی سخت کیے جانے کا امکان ہے۔انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ سوشل میڈیا کو استعمال کرنے کے لیے کم از کم عمر کیا ہوگی۔کچھ عرصے قبل اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس منصوبے پر انڈونیشین صدر سے بات کر چکی ہیں۔انہوں نے اس موقع پر بتایا کہ ہم نے موجودہ عہد میں بچوں کو آن لائن سرگرمیوں سے تحفظ فراہم کرنے پر بات کی اور صدر نے منصوبے کو آگے بڑھانے کی ہدایت کی۔انڈونیشیا کی 79.5 فیصد آبادی انٹرنیٹ استعمال کرتی ہے اور 12 سال سے کم عمر 48 فیصد بچے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے فیس بک، انسٹا گرام اور ٹک ٹاک کو استعمال کرتے ہیں۔اسی طرح 12 سے 27 سال کی عمر کے 87 فیصد افراد انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔انڈونیشیا کے علاوہ سنگاپور کی جانب سے بھی اسی طرح کی قانون سازی پر غور کیا جا رہا ہے۔