آن لائن خریداری میں چوکس رہیں، معیاری اشیاء کے نام دھوکہ دہی

   

ادائیگی کے محفوظ طریقہ پر معلومات لازمی، ویب سائٹس کی تشہیر اثرانداز ہوسکتی ہے

حیدرآباد۔29۔ستمبر(سیاست نیوز) ملک میں تہواروں کے موسم کی آمد کے ساتھ ہی آن لائن خریداری کے پلیٹ فارمس پر شروع ہونے والے سیل شہریوں کے لئے دلچسپی کا باعث بنے ہوئے ہیں اور وہ دکانات کے بجائے ان آن لائن پلیٹ فارمس سے خریداری کو ترجیح دے رہے ہیں جہاں سب سے زیادہ ڈسکاؤنٹ دیا جارہا ہے۔ آن لائن ای۔ کامرس پلیٹ فارمس کے ذریعہ کی جانے والی خریداری سے حاصل ہونے والے فائدہ سے اب شہری آگاہ ہونے لگے ہیں لیکن اس کے نقصانات سے بھی چوکنا رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ غیر معیاری پلیٹ فارمس دھوکہ دہی کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔ دسہرہ اور دیوالی کی شاپنگ کے سلسلہ میں ای۔کامرس ویب سائٹس پر کی جانے والی پیشکش سے استفادہ کرنے والوں کی تعداد میں گذشتہ 3برسوں کے دوران زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تاجرین کا کہناہے کہ کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے دوران بازاروں کے بجائے آن لائن خریداری کو ترجیح دینے والے صارفین پوری طرح بازارو ںکو واپس نہیں ہوپائے ہیں کیونکہ انہیں آن لائن حاصل ہونے والے فوائد میں دلچسپی بڑھنے لگی ہے۔ ای ۔کامرس ویب سائٹس کے ذریعہ کی جانے والی فروخت میں اب ہر شئے دستیاب ہونے لگی ہے علاوہ ازیں کپڑے ‘ جوتے ‘ چپل‘ مصنوعی زیورات اور دیگر اشیاء ای ۔کامرس ویب سائٹس پر فروخت کی جار ہی ہیں اس کے ساتھ پسند نہ آنے پر واپسی کی پالیسی نے خریداری کو راغب کیا ہوا ہے ۔ دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد کے بازاروں میں تجارت کرنے والے تاجرین اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ ای ۔کامرس ویب سائٹس کے ذریعہ کی جانے والی خریداری ان کے لئے چیالنج بنتی جا رہی ہے لیکن اس کے باوجود شہریوں کی بڑی تعداد ایسی ہے جو تصویر کے بجائے اشیاء اور ان کے معیار دیکھ کر خریدنے پر یقین رکھتی ہے اسی لئے بازاروں کی رونق اب بھی برقرار ہے۔ ای۔کامرس پلیٹ فارمس کو فروغ دینے کے لئے سوشل میڈیا پر اثر انداز ہونے والی شخصیات ان کی تشہیر بھی کر رہی ہیں اور نوجوان نسل جو ان ویب سائٹس کے استعمال کے طریقہ کار سے واقف ہے وہ آن لائن خریداری پر توجہ دے رہی ہے ۔ ای۔ کامرس ویب سائٹس پر خریداری کے دوران اس بات کا خصوصی خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ جن ویب سائٹس پر آن لائن ادائیگی کی جاتی ہے ان ویب سائٹس پر ادائیگی کا طریقہ کار محفوظ ہے یا نہیں!ملک بھر میں آن لائن خریداری کے رجحان میں ہونے والے اضافہ کے سلسلہ میں سرکردہ تاجرین کا کہناہے کہ اب تمام مقامی برانڈس کو بھی ای۔کامرس پلیٹ فارمس پر اپنے اشیاء کی فروخت کا آغاز لازمی کرنا پڑے گا۔م