پوچھیں کہ یہ کیوں ہم پہ ستم توڑ رہے ہو
اس قوم کے لوگو ں میں یہ جرأت بھی نہیں ہے
مک کی اہم اپوزیشن جماعتوں کا ایک اجلاس کل پیر کو دارالحکومت دہلی میں ہونے والا ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ اس اجلاس میں 23 اپوزیشن جماعتوںنے شرکت سے اتفاق کرلیا ہے جبکہ یہ قیاس کیا جا رہا ہے کہ عام آدمی پارٹی اور ڈی ایم کے اس اجلاس سے دوری اختیار کریں گے ۔ اہم قائدین میں ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتابنرجی اور سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھیلیش یادو اس اجلاس میں شرکت کرنے والے ہیں۔ یہ بھی قیاس کیا جا رہا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں آئندہ کی حکمت عملی کے تعلق سے اس اجلاس میں غور کریں گی اور حالیہ اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد کی صورتحال پر بھی غور و خوض کیا جائے گا ۔ سیاسی جماعتوں کے اپنے اپنے مسائل ہیں اور وہ ان کے مطابق حکمت عملی بناتے ہوئے کام کرنا چاہتی ہیں۔ ملک میں آج جو صورتحال ہے وہ اس بات کی متقاضی ہے کہ اپوزیشن جماعتیں محض اجلاس منعقد کرنے یا حکمت عملی تیار کرنے تک محدود نہ رہیں بلکہ وہ عوام کو درپیش مسائل پر سڑکوںپر اتر کر احتجاج کی حکمت عملی تیار کریں۔ ملک کے عوام آج زبردست مہنگائی سے پریشان ہیں۔ گذشتہ تین مہینوںمیں پکوان گیس کی قیمتوں میں دو مرتبہ اضافہ کردیا گیا ۔ گذشتہ شب بھی گھریلو پکوان گیس کی قیمتوں میں 29 روپئے کااضافہ ہوا ہے ۔ کمرشیل گیس کی قیمتیں بڑھا دی گئی ہیں۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھی تقریبا آٹھ روپئے کا اضافہ کردیا گیا ۔ عوام مسلسل مہنگائی کی وجہ سے پریشان ہیں ۔ ایسا نہیں ہے کہ صرف ایندھن اور فیول کی قیمتیں بڑھی ہیں ۔ اس کے اثرات ضرورت زندگی کی ہر شئے پر پڑ رہے ہیں اور عوام کے روز مرہ کے استعمال کی اشیاء کی قیمتیں بھی آسمان کو چھونے لگی ہیں۔ دالیں اور ترکاریاں تک مہنگی ہوگئی ہیں اور مرکزی حکومت عوام کو درپیش مسائل سے لاپرواہ ہو کر کام کر رہی ہے ۔ حکومت کو اس بات کا احساس ہے کہ اپوزیشن جماعتیں خاموش تماشائی رہنے کے سواء کچھ نہیںکریں گی ۔ صرف بیان بازیاں یا سوشیل میڈیا کے پوسٹس کرتے ہوئے خاموش ہوجائیں گی ۔یہی وجہ ہے کہ حکومت ہر معاملے میں من مانی انداز میں فیصلے کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔
گذشتہ دنوں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھا دی گئی ہیں۔ گھریلو پکوان گیس کے سلینڈر مہینگے کردئے گئے ہیں۔ کمرشیل گیس کی قیمتیں الگ سے بڑھی ہیں۔ ان سب کے باوجود اپوزیشن جماعتیں محض بیان بازی تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں وہ سرگرم رول ادا نہیں کر رہی ہیں جس کی عوام کو امید ہوا کرتی ہے ۔ جس وقت یو پی اے حکومت مرکز میں برسر اقتدار تھی اور فیول کی قیمتوں میں یا گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا اس وقت بی جے پی اور اس کی حلیف جماعتوں کی جانب سے سڑکوںپر اتر کر احتجاج کیا جاتا تھا ۔ سلینڈرس سڑکوں پر رکھ کر مظاہرے کئے جاتے تھے ۔ لیکن آج کی تاریخ میں اپوزیشن جماعتیں اس طرح کا احتجاج کرنے سے گریزاں ہیں۔ اپوزیشن کی ناکامیوںکی وجوہات کا اگر جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوسکتا ہے کہ وہ عوامی مسائل پر بھی وہ جدوجہد نہیں کر رہی ہیں جو انہیں کرنی چاہئے اور جو اپوزیشن میںرہتے ہوئے ان کی ذمہ داری بنتی ہے ۔ ملک میں بیروزگاری کی شرح مسلسل بڑھتی جا رہی ہے ۔ نوجوانوں کیلئے روزگار کا ملنا انتہائی مشکل ہوگیا ہے ۔ امتحانی پرچوں کا افشاء ہو رہا ہے اور حکومت پر کوئی اثر نہیں ہو رہا ہے ۔ اس کی بھی بنیادی وجہ یہی دکھائی دیتی ہے کہ اپوزیشن جماعتیں خاموش ہیں ۔ وہ حکومت کو گھیرنے اور سڑکوں پر اترنے سے گریز کر رہی ہیں۔ قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے جمہوری انداز میں احتجاج اپوزیشن کا حق ہے اور عوامی مسائل پر حکومت کو گھیرنا اپوزیشن کی ذمہ داری بھی ہے ۔
دہلی کے جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج میںجو بھیڑ جمع ہوئی تھی اورجو دوسری ریاستوں سے بھی لوگ وہاں پہونچے تھے وہ اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ حکومت سے ناراضگی میںاضافہ ہو رہا ہے ۔ عوام بے چین ہیں۔ نوجوان مایوسی کا شکار ہونے لگے ہیں۔ اس صورتحال میں اپوزیشن جماعتوںکو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنے کی ضرورت ہے اور عوامی مسائل پر جدوجہد کا راستہ اختیار کرنا ہوگا ۔ محض انتخابی کامیابی یا ناکامی تک خود کو محدود رکھنے سے کچھ ہونے والا نہیں ہے اور حکومت اپنی من مانی کا سلسلہ جاری رکھے گی ۔ اپوزیشن کو متحرک ہونا ہوگا اور عوام کے درمیان پہونچ کر ان کی توقعات کو پورا کرنا چاہئے ۔