کانگریس اور تلگو دیشم سے انحراف کو بھول گئے، محمد علی شبیر کا الزام
حیدرآباد ۔ 11 ۔ جولائی (سیاست نیوز) سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے الزام عائد کیا کہ وزیراعظم نریندر مودی اور چیف منسٹر کے سی آر دونوں کے پاس دستورکا کوئی احترام نہیں ہے اور انہوں نے ملک میں اپوزیشن پارٹیوں کی حکومتوں میں انحراف کے ذریعہ عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ کے سی آر کی جانب سے وزیراعظم پر اپوزیشن حکومتوں کو غیر مستحکم کرنے کے الزام پر تبصرہ کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ اس معاملہ میں مودی اور کے سی آر ایک ہی کشتی کے سوار ہیں۔ نریندر مودی نے ملک کی مختلف ریاستوں میں اپوزیشن حکومتوںکو زوال سے دوچار کیا جبکہ کے سی آر نے 2014 ء کے بعد سے تلگو دیشم اور کانگریس ارکان کے انحراف کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوا ، منی پور ، مدھیہ پردیش ، کرناٹک اورمہاراشٹرا جیسی ریاستوں میں نریندر مودی نے عوامی منتخب حکومتوں کو غیر مستحکم کیا جبکہ 2014 ء کے بعد سے کے سی آر اپوزیشن ارکان کے انحراف کے ذریعہ حکومت چلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر نے جون 2014 ء میں اقتدار حاصل کرنے کے اندرون دو سال کانگریس ، تلگو دیشم اور بی ایس پی کے 4 ارکان پارلیمنٹ ، 25 ارکان اسمبلی اور 18 ارکان کونسل کو ٹی آر ایس میں شامل کرایا۔ دوسری میعاد میں کانگریس کو کمزور کرنے کیلئے 12 ارکان اسمبلی کو انحراف کے لئے اکسایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر دراصل دلتوں سے نفرت کرتے ہیں ، لہذا 12 ارکان اسمبلی کو منحرف کرتے ہوئے دلت طبقہ کے بھٹی وکرمارکا کو قائد اپوزیشن بننے سے محروم کردیا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ اس وقت کے اسپیکر مدھو سدن چاری اور کونسل کے صدرنشین سامی گوڑ نے منحرف ارکان کو نااہل قرار دینے کی کارروائی نہیں کی ۔ انہوں نے بتایا کہ تلگو دیشم کے سرینواس یادو کو اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ کے بغیر ہی کابینہ میں شامل کرلیا گیا ۔ اسپیکر اور اس وقت کے گورنر نے دستور کی خلاف ورزی کی، بعد میں تلگو دیشم کے تمام 15 ارکان کو ٹی آر ایس میں شامل کرلیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر نے کانگریس اور تلگو دیشم کے منحرف ارکان کو نہ صرف کابینہ میں شامل کیا بلکہ انہیں عہدوں اور دولت کا لالچ دیا گیا ۔ کانگریس کے 12 ارکان اسمبلی کو شامل کرتے ہوئے لیجسلیچر پارٹی کے انضمام کا دعویٰ کیا گیا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ کے سی آر اور نریندر مودی دونوں دستور کی توہین اور خلاف ورزی میں برابر کے شریک ہیں۔ ر